تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 121
114 ہے۔پس کم از کم اتنا تو کرو کہ اپنے عقائد کے مطابق عمل کرو۔اگر کوئی پر و غیر تمہیں کسی احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے تو تم اس کا مقابلہ کرو اور میرے پاس بھی شکایت کرو۔میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔لیکن اگر وہ تمہیں کہتا ہے کہ تم نماز پڑھو تو یہ تمہارے مارل کوڈ کے عضلات نہیں اور اس کا نماز پڑھنے کی تلقین کرنا پلیجس انٹر فیر فیس نہیں۔تم نماز پڑھو پا ہے کسی طرح پڑھو یہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔تم اپنے میں سے کسی کو امام بنا لو۔کالج کے بعض پر وغیر غیر احمدی ہیں۔ان میں کسی کو امام بنانو لیکن نماز ضرور پڑھو۔شیعہ اور بوہرہ لوگ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ چھوڑتے ہیں باندھتے نہیں۔ہم اہلحدیث کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھتے ہیں منفی لوگ نات کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں۔اس کے خلاف اگر کوئی پر وغیرہ تمہیں مجبور کرتا ہے تو تم اس کی بات ماننے سے انکار کر دو۔اگر وہ کہتا ہے کہ تم آمین بالجہر کہو تری اہلحدیث کا مذہب ہے حنفیوں کا نہیں۔اگر تم محنفی ہو تو تم اس کی بات نہ مانو اور میرے پاس شکایت کرو نہیں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔مذہب میں دخل اندازی کا کسی کو منی نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب میں مداخلت کرنا انسان کو منافق بتاتا ہے مسلمان نہیں بناتا لیکن تم میں سے ہر ایک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیم الاسلام کالج کا طالب علم ہونے کی وجہہ سے اسلام کی تعلیم پر چلے۔اب اسلام کی تم کوئی تعریف کرو۔اسلام کی جو تعریف تمہارے باپ دادا نے کی ہے تم اسی کو مانو۔لیکن اگر تم اس تعلیم پر جیسے تم خود درست سمجھتے ہو عمل نہیں کرتے تو یہ منافقت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کالج میں اگر کوئی ہندو بھی واضل ہونا چا ہے تو ہمارے کالج کے روازہ سے اس کے لئے کھلے ہیں لیکن وہ بھی اس بات کا پابند ہو گا کہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرے کیونکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے۔ہندو اپنے مذہب پر عمل کرے، عیسائی عیسائیت پر عمل کرے اور یہودی یہودیت پر عمل کرے۔میں اس اسلامی حکم کی وجہ سے ہم اسے مجبور کریں گے۔کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے۔لیکن یہ کہ تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرو لیکن کسی بادل کوڈ کے ماتحت نہ پھلو یہ درست نہیں ہوگا تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی نہ کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہوگا اور پھر تمہارا فرض ہو گا کہ تم اس کے ماتحت چلو۔