تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 120
وہی سیکھو جسے تم اسلام سمجھتے ہو۔اگر انسان کرتا اور ہے اور کہتا اور ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔دیوبندی ی بانویوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے بستی شیعوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ اُن کا اسلام اور ہے۔اسی طرح آغا خانیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کا اسلام اور ہے جماعت اسلامی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کا اسلام اور ہے۔احمدیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کا اسلام اور ہے لیکن جب یہ سب فرقے اپنے آپ کو اسلام کا پیرو کہتے ہیں تو وہ اسلام کے متعلق کچھ نہ کچھ تو ایمان رکھتے ہوں گے ورنہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے۔بریلوی بھی مسلمان ہیں ، دیوبندی بھی مسلمان ہیں ، سنتی بھی مسلمان ہیں ، شیعہ بھی مسلمان ہیں ، جماعت اسلامی والے بھی مسلمان ہیں ، احمدی بھی مسلمان ہیں۔تم ان میں سے کسی فرقے کے ساتھ تعلق رکھو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ تم مانتے ہو اس پر عمل کر وہ قرآن کریم میں بار بار ہے کہا گیا ہے کہ اسے عیسائیو! تم میں اسوقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک عیسائیت پر عمل نہ کرو اور یہودیو سے کہا گیا ہے کہ اسے یہو دیو ! تم میں اس وقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک تم یہودیت پر عمل نہ کرو۔اب دیکھ لو قرآن کریم ان سے یہ نہیں کہتا کہ تم اسلام پر عمل کرو بلکہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنے مذہب پر عمل کرو کیونکہ نیکی کا پہلا قدم پہنا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مذہب پر عمل کرے۔پھر دیکھو اسلام نے اہل کتاب کا ذبیجہ بھائز رکھا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مذہب نے کچھ اصول مقررہ کتے ہیں اور ان کے ماننے والے اُن اصول کی پیروی کرتے ہیں۔تم سمجھتے ہو کہ یہودی منور نہیں کھاتے اس لئے تم تسلی سے ان کا ذبیحہ کھا لو گے۔اسی طرح عیسائیوں سے تم کوئی معاملہ کرتے ہوئے نہیں گھبراؤ گے کیونکہ ان کی مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ تم جھوٹ نہ بولو اور کسی سے قریب نہ کرو انفرادی طور پر اگر کوئی شخص تم سے قریب کرے تو کرے لیکن اپنے مال کوڈ کے ماتحت وہ تم سے قریب نہیں کرے گا۔اہل کتاب کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی اسی حکمت کے ماتحت ہے کہ وہ تمہاری زوجیت میں آجانے کے بعد اپنے مال کوڈ کے ماتحت چلینگی مثلاً یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم کے ماتحت کوئی عورت اپنے خاوند کو زہر نہیں دے گی۔اس لئے تم اطمینان سے اپنی زندگی بسر کر سکو گے اور ایک دوسرے پر اعتماد کر سکو گے۔گویا شریعت نے مذہب کو بہت عظمت دیا ہے اور بتایا ہے کہ اپنے مخصوص عقیدہ پر چلنے میں بڑی سیفٹی