تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 119 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 119

110 بعد ازاں محضور نے کالج کی عمارت کا معائنہ فرمایا معائنے کے بعد حضور سٹیج پر تشریف لائے اور ڈیڑھ گنٹر تک حاضرین سے پر معارف منطاب فرمایا۔افتتاح کی کاروائی تلاوت قرآن مجید سے شروع کی گئی جو سردار حمید احمد صاحب سیکنڈ ایر نے کی۔ان کے بعد محمد اسلم صاحب صابر متعلم فرسٹ ایم نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی نظم " حمد و ثناء اسی کو جو ذات جاودانی " خوش الحانی سے پڑھی۔بعد ازراں پر و غیر نصیر احمد خاں صاحب نے اپنی دو نظمیں پڑھیں جو انہوں نے خاص اسی تقریب کے لئے لکھی تھیں۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے سپاستا پیش کیا جس میں آپ نے ان تمام مراحل پر بلیغ انداز میں روشنی ڈالی جین سے گند کر کالج کی عظیم الشان اور پرشکوہ عمارت پایہ تکمیل تک پہنچی تھی ہے سپاسنامہ کے بعد حضرت مصلح موعود نے ایک نہایت ولولہ انگیز تقریر فرمائی جس میں حضور نے اس کالج کے قیام کی اصل غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو خاص طور پر نصائح فرمائیں کہ تمہیں جو تعلیم الاسلام کانچ میں داخل کیا گیا ہے تو اس مقصد کے ماتحت داخل کیا گیا ہے کہ تم دین کے ساتھ دنیوی علوم بھی سیکھو۔میں جانتا ہوںکہ تم میں سے ۴۰/۳۰ فیصدی غیر احمدی ہیں، لیکن تم بھی اس نیت سے یہاں آئے ہو کہ دینی تعلیم حاصل کرو۔بیشک کچھ تم میں سے ایسے بھی ہوں گے جو دوسر کالجوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔اس کالج کا خرچ تھوڑا ہے اس لئے وہ یہاں آگئے یا ان کا گھر ریوں سے قریب ہے اس لئے وہ اس کالج میں داخل ہو گئے یا ممکن ہے ان کے بعض رشتہ دار احمدی ہوں اور وہ یہاں آباد ہوں اور انہیں ان کی وجہ سے یہاں بعض سہولتیں حاصل ہوں لیکن تم میں سے ایک تعداد ایسی بھی ہوگی جو یہ بھتی ہوگی کہ اس کالج میں داخل ہو کہ ہم اسلام سیکھ سکیں تم میں سے جو طالب علم اس نیت سے یہاں نہیں آئے کہ وہ اسلام کی تعلیم سیکھ لی میں اُن سے کہتا ہوں کہ تم اب یہ نیت کر لو کہ تم نے اسلام کی تعلیم سکھتی ہے۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ تم اسلام کی تعلیم سیکھو تو میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم احمدیت کی تعلیم سیکھو۔ہمارے نزدیک تو اسلام اور احمدیت میں کوئی فرق نہیں۔احمدیت حقیقی اسلام کا نام ہے لیکن اگر تمہیں ان دونوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے تو تم ے دونوں نظمیں رسالہ "المنار" باست ماه ثبوت / نوم السلام ۱۳۳۳ ۱۷۱ ایش صفحه ۱۷ و ۱۷ پر شائع شدہ ہیں ، ا نے "المنار" با ست ماه نبوت / نوبه ده مش صفحه ۱۷ - ۱۸ *