تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 112 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 112

اور اس طرح عمارت کے ایک حصہ کے بعد دوسرے حصہ کی تعمیر اپنی نگرانی میں کرواتے چلے گئے مشکلات سے کبھی آپ گھبرائے نہیں۔اور آپ کو یہ یقین تھا کہ اللہ تعالے اپنے محبوب کی خواہش کی تکمیل کے لئے غیر معمولی سامان پیدا کر دے گا۔ایک دن خاکسارلاہور سے یہاں آیا۔خاکسار نے دیکھا کہ دوپہر کے وقت کالج کی زیر تعمیر عمارت ہی میں مقیم رہے۔کھانا کھانے کے لئے شہر میں تشریف نہ لائے بلکہ ان مزدوروں سے چو اپنی روٹی پکا رہے تھے قیمت روٹی لے کر وہیں تناول فرمائی " - حکیم عبد الرحمن صاحب جنید ما نمی رسانی سپر منڈی تعلیم الاسلام کا لج تقریر کرتے ہیں :- پ نے تعمیر کالج کے دوران ارادہ فرمایا تھا کہ صرف نیگر کی دال اور روٹی کھایا کہ دل لگا۔آپ نے اکثر دوپہر کا کھانا وہیں نا مکمل عمارت کے برآمدہ میں کھایا ہے اور نمازیں تک وہیں پڑھی ہیں اور کام کے وقت ایک ایک اینٹ ولنسل وغیرہ کی کھڑے ہو کہ نگرانی کی ہے۔" تعلیم اسلام کالج کی زمین کا رقیہ عمار یکی ۳۳ مربع گز ہے اور مسقف معتہ ایک لاکھ مربع فٹ ہے۔گورنمنٹ کے دینے کے مطابق چودرہ روپے فی مربع فٹ کے حساب سے چودہ لاکھ روپیہ کی عمارت ہے، اس پر آپ کی نگرانی اور توحید کی بدولت چار پانچ لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے" چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے لکھتے ہیں :- " جب کالج ربوہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو آپ اپنی نگرانی میں کالج کی تعمیر کے لئے تشریف لے آئے۔کچھ عرصہ یہ عاجز بھی آپ کی خدمت میں حاضر رہا۔فجر کی نماز پڑھ کر کالج میں تشریف لے آتے جہاں نہ کوئی درخت تھا نہ سایہ، نمکین پانی کے دونکے تھے۔کھانا لنگر خانے سے آتا تھا۔مزدوروں میں کھڑے ہو کر کام کی نگرانی فرماتے۔جب مزدور آرام کرتے تو آپ حسابات کا معائنہ کرتے کبھی رقم ختم ہو جاتی تو اس عاجز کو بھیجتے کہ عطایا ( DONATIONS) لی جائیں اور اللہ تم کا یہ فضل تھا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ ایک لاکھ کی منظوری کے ساتھ اس سے کئی گنا قیمت کی عمارت مہینوں میں تعمیر ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کے بھی عجیب عجیب معجزے دیکھے جب ہال کا نٹل پڑنے والا تھا اور کثیر مقدار میں سیمنٹ اور مصالحہ بھگو کر تیار کیا جا چکا تھا تو سیاہ بادل اُٹھا اور گھر کو بچھا گیا۔آپ نے ہاتھ اُٹھا کر بادل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ یہ غریب جماعت کی خرج کی ہوئی رقم ہے۔اگر تو بر سا تو یہ رقم ضائع ہو جائے گی۔بھا یہاں سے پہلا تھا۔در اصل آپ کی اللہ تعالیٰ کے حضور ایک رنگ میں فریاد تھی۔جو قبول ہوئی اور جس طرح ابر آیا تھا اُسی طرح چلا گیا۔" -۴- چوہدری غلام حیدر صاحب مینا لیکو پراسسٹنٹ و ناظم املاک کا لج لکھتے ہیں :-