تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 113
اُن دنوں سریا اور پائپ ملنے میں بہت سی دشواریاں تھیں۔خاکسار کو کراچی تین دفعہ بھیجا گیا اور وہاں سے کنٹرول ریٹ پر خرید کیا بھاتا را اسی طرح فرنشنگ اینڈ فٹنگ کے لئے پائپ اور فٹنگ کی وقت تھی اور یہ بھی ان کی وجہ سے کراچی سے کنٹرول پر مل گیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کئی دفعہ رقم فراہم کرنے میں دقت ہوئی مگر ہمارے شیر دل بہادر اور محبوب آقا نے ذرا بھی لیبر یا ٹھیکیداروں کو محسوس نہیں ہونے دیا۔آپ یوں تو بنیاد سے لے کر چھت تک نگرانی فرماتے رہے مگر نینٹل جب پڑھتے تو خود سریا ، اس کی بندھوائی اور سیمنٹ ریت بھری کی مقدار چیک کرتے اور اس وقت تک نہ ہلتے جب تک سارا نسل ختم نہ ہو جاتا۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کالج ہال پر لینٹل پڑ رہا تھا جو کافی بڑا کام تھا اور لیبر کافی درکار تھی۔کام شروع ہو چکا تھا۔بے شمار سیمنٹ کی بوریاں کھنگی پڑی تھیں اور انہیں مسالہ کے ساتھ ملایا جا رہا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹا اٹھی اند یقین تھا کہ ابھی بارش ہو جائے گی آپ نے بادلوں کی طرف دیکھ کر خواہش ظاہر کی کہ واپس پہلے بھائیں۔اسی وقت بادل ایک طرف سے ہو کہ گزر ہو گئے اور آپ رات کا کافی حصہ گئے تک لنسل مکمل کر کے تشریف لے گئے لیے جب کبھی طبیعت خراب ہوتی تو بستر پر بھی کام کا خیال رہتا۔ایک دفعہ آپ کی طبیعت بوجہ دل کی تکلیف کے خراب تھی۔گھر لیٹے ہوئے تھے۔پانی کی ٹینکی بنائی جا رہی تھی اور مجھے حکم تھا کہ میں نے ایک منٹ ادھر اُدھر نہیں ہونا اور رپورٹ ہر گھنٹہ بعد گھر بھجوانی ہے ایک دفعہ وزیر تعلیم سردار عبد الحمید صاحب دستی آئے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کا کالج اور ہوسٹل پر کتنا خرچ اُٹھا ہے۔آپ نے فرمایا کہ قریباً پانچ لاکھ ، تو وہ حیران ہو گئے کہ سرگودہا کالج پر تو ۲۵ لاکھ خرچ ہوا ہے۔اور آپ کی نگرانی اور محنت کی بہت تعریف کی۔کالج کو پانی کی سخت تکلیف تھی۔کالج کے احاطہ میں ٹیوب ویل بور کرانا شروع کیا مگر چین کی وجہ سے ٹھیکیدار پائپ درمیان میں چھوڑ گیا۔آخر کار کالج سے کوئی دو ہزار فٹ دور ٹیوب ویل جوایا اور وہاں سے پائپ کے ذریعہ لیبارٹریز اور احاطہ کا لج و ہوسٹل کو پانی مہیا فرمایا۔کالچ میں تک شاپ ، گیسٹ ہاؤس اور فیملی کوارٹرز بھی بنائے گئے۔ہوسٹل بہت اچھا بنایا گیا۔آپ کی شفقت اور ہمدردی خصوصاً فزکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رہی۔یہاں ربوہ آکمی NON۔الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ صفحه ۴ B۔S۔C۔