تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 104
۱۰۷ و تاریخ مہمان خصوصی ر احسان ایون میش بیروغیر حمید احمد نان صاحب پر نسپل اسلامیہ کالج لاہوری مه مش مولانا صلاح الدین صاحب مدیر " ادبی دنیا " لاہور ار شهادت اپریل ریش حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری شاگرد خاص خشی میراحمد امیر مینائی کا رقم فرمودہ طلبہ مولانا جلال الدین صاحبت شمس سابق میل بلاد عربیہ عربیہ نے پڑھا۔یہ درسگاہ جہا جو تھی۔اسے اپنی آبادکاری میں سینکڑوں وقتیں پیش آئیں۔ڈی اے کا لج کیلئے ایک کا خطرہ وی کالج کی جو عمارات بعد مر وقت کی وہ انتہائی خستہ حالت میں تھی۔زر کثیر خرچ کر سکے اور کافی تگ و دو کے بعد اس کے بڑے مجھے کو قابل استعمال بنایا جا سکا۔اس عمارت کے بعض حصوں پر بھی قبضہ بھی نہ ماتھا کہ بعض حلقوں میں یہ سوال اُٹھا دیا گیا کہ یہ عمارت اس تعلیمی ادارہ سے چھین لی جائے اور اس کی بجائے کوئی اور مخته مرسی عمارت، دے دیا عبائے ہیں خدا تعالے کی تائید و نصرت ان غیر مطمئن اور سند درجہ من و خوش حالات نے کالج کے ماحول پر خترناک و اثر ڈالا اور بہت سی تجاویز شرمندہ تکمیل نہ ہو سکیں مگران مشکلات کے اور کالج کی مزید کامیابیاں با وجود یہ درسگاہ خدا تعالی کے فضل سے شاہراہ ترقی پر گامزن رہی۔کالج قریباً سات سال تک، لاہور میں جاری رہا اس عرصہ میں خصوصاً ڈی۔اے۔وہی کالج کی عمارت کے قبضہ کو ختم کرنے کی منظم تحریک کے بعد کالج نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کیں ، اس کی تفصیلات اس دور کی مطبوعہ سالا رپورٹوں سے باآسانی معلوم کی بھانکتی ہمیں خلاصہ یہ کہ اپنے مخصوص دینی و علمی اصول اور اخلاقی روایات کے بر قرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر امتحان میں کالج کے نتائج نہایت خوشکن اور یو نیور سٹی کی اوسط سے بہت بڑھ کر رہے۔چنانچہ بارش میں اس کے ایک مطالبہ علم مرزا بشارت احمد صاحب ہیں۔ایس سی میں مجموعی طور پر پنجاب بھر میں سوم رہے۔۳۳۲۳۳ اہش میں اس کے ایک اور طالب علم حمید اللہ تمام بے نے بی۔انہیں بہی میں صوبہ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ان سالوں میں طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔اور وہ قریباً پانسو تک آنے گئی۔1981۔ل " الفضل در احسان ارجون من سفر مجھے یہ خطبہ جلیلہ رسالہ المنار وفا ظہور تبوک جولائی اگست ستمی پیش کی زینت ہے ؟ سے روپ کی تعلیم الاسلام کالج لاہور ( ۵۱-۱۹۵۰ ) مصنفیر ۱-۱۲