تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 101
H یونیورسٹیوں کو بناتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ ڈگری سے طالب علم کی عزت نہیں ہوتی ہے۔پس تمہیں اپنے پیمانہ اعلم کو درست رکھنے بلکہ اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے اور اپنے کالج کے زمانہ کی تعلیم کو اپنی عمر کا پھل نہیں سمجھنا چاہئیے بلکہ اپنے علم کی کھیتی کا بیج تصور کرنا چاہیئے اور تمام ذرائع سے کام لے کر اس پیج کو زیادہ سے زیادہ بار آور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے تا کہ اس کوشش کے نتیجہ میں اُن ڈگریوں کی عزت بڑھے جو آج تم حاصل کر رہے ہو اور اس یہ نیورسٹی کی عزت بڑھے جو تمہیں یہ ڈگریاں دے رہی ہے اور تمہاری قوم تم پر فخر کرنے کے قابل ہو اور تمہارا ملک تم پیا اعلیٰ سے اعلیٰ امیدیں رکھنے کے قابل ہو۔اور اُن امیدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھے۔تم ایک نئے ملک کے شہری ہو۔دنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظاہر ایک چھوٹی سی مملکت کے شہری ہو۔تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے۔ایک غریب ملک ہے۔دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہو چکے ہو۔سو تمہیں اپنے اخلاق اور کردار بدلتے ہوں گے تمہیں اپنے ایک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہوگی تمہیں اپنے ملک کو دنیا ہے روشناس کرانا ہو گا۔ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے۔لیکن ان کی معزرت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کام ہے اور یہی دشوار کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے۔تم ایک نئے ملک کی نئی پود ہو۔تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی ہوئی چیز ملتی ہے۔انہیں آباد و اجداد کی سنتیں یا روایتیں وراثت میں ملتی ہیں مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روائتیں بھی قائم کرنی ہیں ایسی روائتیں جنی پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روایتوں کی بہتا میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔پس دو سہ سے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلے پر ایک باپ کی حیثیت رکھتے ہو۔وہ اپنے کاموں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں۔تم نے اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مد نظر رکھتا ہو گا، جو بنیاد تم قائم کرو گے آئندہ آنے والی نسلیں ایک حد تک اس بنیاد پر عمارت قائم کرنے پر مجبور ہوں۔اگر تمہاری بنیاد ٹیڑھی ہو گی تو اس پر قائم کی گئی عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔اسلام کا مشہور فلسفی شاعر کہتا ہے کہ