تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 102 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 102

١٠٢ Q۔۔خشت اول چوں نہر معمار کچھ تا ثریا می رود دیوار کج یعنی اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے تو اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت اگر ثریا تک بھی جاتی ہے تو ٹیڑھی ہو جائے گی۔پس یوجہ اس کے کہ تم پاکستان کی خشت اول ہو تمہیں اس بات کا بڑی احتیاط سے خیال رکھنا چاہیئے کہ تمہارے طریق اور عمل میں کوئی بھی نہ ہو کیونکہ اگر تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کبھی ہوگی تو پاکستان کی عمارت ثریا تک ٹیڑھی ملتی جائے گی۔بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتناہی شاندار بھی ہے۔اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کر کے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پہ قائم کر دو گے تو تمہارا نام اس عزمت اور اس محبت سے لیا بجائے گا جس کی مثال آئندہ آنے والے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی نئی منزل پر عزم ، استقلال اور علو حوصلہ سے قدم مارو۔قدم مارتے چلے جاؤ اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جاؤ کہ عالی ہمت نوجوانوں کی منزل اول بھی ہوتی ہے اور منزل دوم بھی ہوتی ہے، منزل سوم بھی ہوتی ہے لیکن آخری منزل کوئی نہیں ہوا کرتی۔ایک منزل کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تمیری وہ اختیار کرتے پہلے جاتے ہیں۔وہ اپنے سفر کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔وہ اپنے رخت سفر کو کندھے سے اُتارنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔اُن کی منزل کا پہلا دور اسی وقت تختم ہوتا ہے جبکہ وہ کامیاب اور کامران ہو کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کی داد اس سے حاصل کرتے ہیں جو ایک ہی ہستی ہے جو کسی کی مقدرت کی صحیح داد دے سکتی ہے۔پس اے بخدائے واحد کے منتخب کردہ نو جوا نو ! اسلام کے بہادر سپاہیو! ملک کی امید کے مرکز و قوم کے سپوتو ! آگے بڑھو کہ تمہارا خدا تمہارا دین تمہارا ملک اور تمہاری قوم محبت اور امید کے مخلوط جذبات سے تمہارے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں بے حضرت امیرالمومنین کے خطبہ صدارت کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالچ تے ہیں اوارہ کی دو سالہ روداد پڑھ کر ستائی جس میں کالج کی ترقی، طلبہ کی تعلیم و تربیت اور اُن کے علمی و ام سیا الفضل اور شہادت اپریل ۳ سال پیش مقر ۹۳/۰۳ - ۲ے اس کے مکمل متن کے لئے ملاحظہ ہو" الفضل ھر شہادت / سے اپریل کا مش صفحه به