تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 96
94 حاصل نہیں کیں بلکہ اپنے ہر شعبہ میں روز افزوں ترقی کا ثبوت یا چنانچہ ہی میں طلبہ کی تعداد ساٹھ سے اسلام ر بڑھ کر ۲۶۷ تک پہنچ گئی۔کتب خانہ کی از سر نو تشکیل کی گئی اور کئی ہزار کتابوں کا بیش بہا ذخیرہ جمع ہو گیا۔امریکہ کے تو مسلم بھائیوں نے ۲۲۸۰ مجلدات بھیجوائیں۔اس کے علاوہ انگلستان سے بھی بعض عطایا وصول ہوئے طالب ہوں کے علمی ارتقاء کے لئے مجلس عمومی (کالج یونین، مجلس عربی مجلس اقتصادیات ، سائنس سوسائٹی ، فوٹو گرافک اور ریڈیو سوسائٹی سرگرم عمل رہیں۔اس عرصہ میں یونیورسٹی آفیسرز ٹریننگ کو بھی قائم کی گئی۔کالج سے دستہ نے تبلیغ فروری مہیش میں سالانہ کیمپ کے موقعہ پر مضبوط اور اطاعت کا بہترین نمونہ دکھا کر اعلیٰ افسروں سے خراج تحسین وصول کیا اور دستہ کے سارجنٹ بشارت احمد کی ہز ایکسیلنسی کمانڈر انچیف پاکستان نے بھی بہت تعریف کی۔اور اس فن میں مہارت پر انہیں مبارکباد دی۔IPPA ہ ہی میں سالانہ کیمپ کے موقعہ پر ہو۔اور ٹی سی کے ہر افسر نے کالج کے اس دستہ کے جوانوں کے ضبط ، اطاعت جوش عمل اور حسن کارکردگی پر اظہار مسرت کیا اور یہ دستہ عسکری فنون میں تمام دوستوں میں اول رہا اور یو۔او۔ٹی سی کے کرنل نے گورنر پنجاب سردار عبدالرب صاحب نشتر کے سامنے اس امر کا اظہار بھی کیا۔تعلیم الاسلام کا ولی کا یہ دستہ ہر لحاظ سے معیاری اور بہترین شمار کیا جاتا تھا۔چنانچہ مختلف گارڈز آف آن میں نسبتی اعتبار سے بھی اور محض تعداد کے اعتبار سے بھی تعلیم الاسلام کالج کی تعداد سب سے زیادہ رہی مثلاً ان دنوں شہنشاہ ایران کی آمد پر جو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس میں تقریباً اسی فیصد فی جوان اسی کالج کے طالب علم تھے اسی طرح فٹ بال، والی بال ، بیڈ منٹن اور تیرا کی میں کالج کی ٹیمیں خاص اعزانہ کی حامل رہیں۔کشتی رانی میں کالج کی ٹیم پنجاب روئنگ الیسوسی ایشن کے سالانہ مقابلہ میں اول آئی۔جہانتک طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت کا تعلق ہے اس کے لئے بھی کالج کی طرف سے موثر انتظام کیا گیا اور خصوصاً اسلامی شعائر اور فرائض کی پابندی پر بہت زور دیا گیا جس میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی بلے لاہور کے علمی اداروں میں چو ہدری محمد علی صاحب کا بیان ہے کہ " جب کالج لاہور آیا تو آہستہ آہستہ بہت سے غیر از جماعت طلباء تعلیم الاسلام کالج کا اثر ونفوق له جو صاف ستھری اخلاقی اور تعلیمی فضا میں پڑھنا چاہتے تھے تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہونا شروع ہوئے کالج کی شہرت اور نیک نامی آہستہ آہستہ دلوں میں گھر کو رہی تلقی الفضل" هر شہادت / اپریل ارامش صفحه ۳ تاہم ملخصاً ، "المنار" بنجر احسان مٹی جون ایش صفحه ۲۶ لا سرمایش ۹۲۶ $190۔194-