تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 95
۹۵ مواقع میسر آنے کے اس کالج میں داخل نہیں کرتا وہ اپنے بچوں کی دشمنی کرتا اور سلسلہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت بہتا نہیں کر ہی ہے حضرت مصلح موعود نے حمدنی جماعتوں کو تعلیم الاسلام کالج میں بچوں کو داخل کرنے کی تحریک فرمانے کے بعد کالج کے عملہ کو متعد د زریں ہدایات دیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ انہیں اپنے نتائج بہتر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے دوسروں سے زیادہ وقت کالج کی ترقی اور لڑکوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے صرف کرنے کی عادت ڈالیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ دینی احکام کا پابند اور اخلاق فاضلہ کا متصف بنائیں۔لڑکوں کی خوراک کی طرف زیادہ توجہ رکھنی پہنچے اور کوشش کرنی چاہیے کہ تھوڑے روپیہ سے بہتر سے بہت کھانا ان کو مہیا کیا جائے۔اسی طرح دینیات کی تعلیم کی طرف انہیں خاص طور پر توجہ کرنی چاہئیے۔لڑکوں کے اندر صحیح دینی جذبہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرکز سے وابستہ ہوں۔اور مرکز سے وابستگی پیدا کرنے کے جہاں اور کئی طریق ہیں وہاں ایک یہ بھی طریق ہے کہ خلیفہ وقت سے کالج میں کم سے کم دو چار لیکچر سالانہ کروائے جائیں تاکہ ن کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوا اور قربانی کی روح ان کے اندر ترقی کرے۔اس کے علاوہ جماعت کے دوسرے علماء اور مبلغین سے بھی وقتا فوقتا لیکچر کروانے بچائیں۔ہمارے کالج کے افسروں کے اندر یہ بھی احساس ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے طالب علموں کی زندگیوں کو سنوارنا اور انہیں قوم کے لئے اعلی درجہ کا وجود بتاتا ہے یہانتک کہ وہ جس محکمہ میں بھی جائیں اس میں پوٹی کے آدمی ثابت ہوں اور کوئی دوسرا شخص اُن کا مقابلہ نہ کر سکے ہیں وقت کوئی دوسرا شخص یہ سنے کہ یہ احمدی انجنیئر ہے یا احمدی ڈاکٹر ہے یا احمدی وکیل ہے یا احمدی بیرسٹر ہے یا احمدی تاجر ہے تو وہ کسی انٹرویو کی ضرورت ہی نہ سمجھے بلکہ محض ایک احمدی کا نام سنتے ہی یقین کر لے کہ اس شخص کا اپنے فن میں کوئی اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس ضمن میں حضور نے عملہ کالج کو آخری نصیحت یہ فرمائی کہ انہیں لڑکوں کی دماغی تربیت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ان کا صرف اچھے نمبروں پر پاس ہو جانا کافی نہیں بلکہ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی دماغی تربیت اس رنگ کی ہو کہ جب وہ نماز پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح نماز پڑھیں اور جب کتاب پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح کتاب پڑھیں ہیں تعلیم اسلام کالج کے ہرشعب میں روز افزوں ترقی تعلی اسلام کا ن نے انتہائی بے سروسامانی اور اساعد شعبہ میں میںروز حالات کے باوجود صرف امتحانوں میں نمایاں کامیابیاں الفضل" که در تبوک استمبر ایش مسعوده ، له الفضل " ما تبوک استمبر همایش صفحه 1 - :