تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 79 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 79

49 اہل ملک کو کھونا اور جماعت احمدیہ کو خصوصاً اس ادارہ سے بہت تو قعات ریسرچ کا دوبارہ لاہور میں قیام دوست تھیں اور وہ اسے دنیابھرمیں اپنی طرزکا منفرد اور کامیاب سائنسی لاہوری طرفہ تحقیقات کا مرکز دیکھنا چاہتی تھی۔مگر جیسا کہ آئندہ آنے والے واقعات نے ثابت کیا خدا تعالے کی مشیت کے مطابق عهد مصلح موجود میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی محض داغ بیل ڈالنا مقصود تھا ٹھیک جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے زمانہ مبارک میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد کا رکھا جانا ! یہاں تو میں کالج کی بندش حکومت کی داخلہ پالیسی کے نتیجہ میں بالواسطہ ہوئی تھی وہاں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ۱۹۴۷ء میں فسادات ملکی کی وجہ سے بند کرنا پڑی۔مگر حضرت سیدنا محمود الصلح الموعود نے قادیان میں مغربی فلسفہ کے خلاف اسلام کی تائید و بر توی کے لئے جو قدم اُٹھایا تھا اس سے وقتی طور پر بھی ہٹنا گوارانہ فرمایا۔چنانچہ محض آپ کے طفیل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دوباره معرض وجود میں آگئی۔رسیرچ کا دفتر ۱۰۸ بلاک بسی ماڈل ٹاؤن لاہور میں قائم کیا گیا اور صنعتی کام کے لئے مسلم ٹاؤن کے بالمقابل نہر کے پاس ایک لیبارٹری الاٹ کرائی گئی جو ہی ہم کے نام سے مشہور تھی یکے لاہور میں اس کی ابتداء بہت مشکلات کے دوران ہوئی۔کافی تگ و دو کے بعد کیمیاوی مرکبات اور سائنٹفک سامان بنانے کا کام شروع کیا گیا۔دو تجر بے بڑے پیمانہ پر کئے گئے ہو گندھک کی صفائی اور گندمک کا تیزاب بنانے سے تعلق رکھتے تھے۔کچھ عرصہ کے لئے صابن سازی کی صنعت بھی تجاری رہی۔ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا ایک پروگرام بیرون ملک میں پنے سکالرز کو اعلی تعلیم اور ٹرینگ دلوانا بھی تھا۔پانی اس سکیم کے تحت چار افراد امریکہ و انگلستان بھجوائے گئے۔اور متعد طلبہ کو اندرون ملک اعلی تعلیم دلائی گئی۔اواخر اد میں بیرونی ممالک کے سکالرزہ واپس آنا شروع ہوئے اور شاہ کے وسط میں انسٹی ٹیوٹ کو از سرنو تر تیب دیا جانے لگا۔۱۹۵۷ء کی ابتدا و تک انسٹی ٹیوٹ پلیننگ کے مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔مالی مشکلات کے پیش نظر چھوٹے پیمانہ پر ہی کام ممکن ہو سکا۔کیمیاوی مرکبات بنانے کا کام جاری رہا۔وارنیش بنانے کا کام تجربہ کے رنگ میں شروع کیا گیا۔چند ایک مکینیکل لائن کی مصنوعات بھی بنائی گئیں جو سائیکل انڈسٹری سے تعلق رکھتی تھیں۔گندھک صاف کرنے کا ایک کامیاب تجربہ کیا گیا۔کاسمیٹکس کے چند ایک عمدہ مرکبات بنائے گئے۔پاکستان کی چند معد نیات کا کیمیاوی تجزیہ کیا گیا۔FIELD RESEARCH STATION سے ان کا ذکر فصل دوم میں آچکا ہے ، ے اب یہ عمارت پنجاب یونیورسٹی لاہور کے نیوکمپس کا حصہ ہوں