تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 16
14 کالج میں داخل طلبہ کی ناداری اور تنگدستی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایف اے کے امتحان میں داخلہ بھجوانے کا موقع آیا تو چار طلبہ میں سے دو طالب علم داخلہ امتحان کی (۲۰ روپے) نہیں تک ادا کرنے سے قاصر تھے جس پر اخبار الحکم " اور " البلد دونوں کو چندہ کی تحریک کرنا پڑی۔اگر چہ کالج کے لئے یہ پہلا موقعہ تھا کہ اس کے طلباء پنجاب یونیورسٹی کے الضمان کالج کے امید افزاء نتائج میں شریک ہوئے گر جناب انہی کی یہ خاص عنایت ہوئی کہ جہاں یونیورسٹی کا وہاں یریا میں فی تھا ان تعلیم اسلام ایک کے بانی کی اوسط پیتر یاری یعنی چار طلبہ میں سے تین الیف اسے میں کامیاب قرار پائے۔کالج کے اس امید افزاء نتیجہ پر رسالہ ریویو آف ریلیجنتر (اردو نے حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔دو سال گزر چکے ہیں جب اس کالج کی بنیاد پہلے رکھی گئی تھی اور ابھی تک پبلک کو اس کی تعلیمی حالت کا صحیح اندازہ لگانے کا موقعہ نہ ملا تھا مگر فشار کے امتحان یونیورسٹی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علاوہ دینی تعلیم اور تعلیم قرآن شریف کے جو اس کالج کے خاص اخراض میں سے ہے یہاں کی معمولی تعلیم بھی اعلیٰ درجہ کی ہے اور کالج کا سٹان مخصوصاً قابل تعریف ہے۔اس سال اس کالج سے چار طالب علم امتحان الیف۔اے میں شامل ہوئے تھے جن میں سے تین کامیاب ہوئے جہاں عام طور پر ایف اے کے امتحان میں ۳۸ فی صدی طالب علم پاس ہوئے ہیں اور بڑے بڑے مشہور کالجوں میں بھی نصف کے قریب قریب ہی تعداد پاس شدگان کی ہے۔ہمارے کالچ کا نتیجہ 20 فیصدی کامیاب بتاتا ہے۔زمانہ کی زہرناک ہواؤں کے اثر سے بچنے کے لئے یہ جگہ خدا کے فضل سے نہایت عمدہ ہے کہ یونیورسٹی ایکٹ کا نفاذ تعلیم اسلام کالج کی نئی فرسٹ ایر کلاس را می ستار کو کھول دی گئ ھے میر لارڈ کرزن وائسرائے ہند کی طرف سے یونیورسٹی ایکٹ نافذ کر دیا گیا جس کی رُو اور کالج کی بندش حکومت کو یونیورسٹیوں کے معاملات میں مداخلت کے وسیع اختیارات مل گئے نیز یہ پابندی عائد کردی گئی کہ آئندہ کا لجوں کے الحاق کی منظوری کالجوں کی مستحکم مالی حیثیت ، ٹرینڈ سٹاف اور شه مورته ۲۲ دسمبر ۱۹ صفحه ۱۸ و ۰ار جنوری ماله صفحه ۱۹ سه مورخہ یکم جنوری سنت اور صفحہ ۱۔اس چندہ میں حصہ لینے والے بزرگوں کے اسماء گرامی اختیار حکم اور جنوری شدہ صفحہ 11 کالم ہم میں شائع شدہ ہیں ؟ سے اختبار " بلد ۲۰ اپریل ۱۹۰۵ و صفحه امیں پاس ہونے والوں کے نام درج ہیں ، کمد ریویو آن پیجز" اردو بابت ماہ مئی سفانہ سرورق صفحه ۲ :