تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 293 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 293

۳۸۳ بارها از راہ مذاق کہا کرتے۔تم جوان میرے ساتھ اب بھی گشتی نہیں کر سکتے۔حضرت امیر المومنین کی ذات با برکات سے تو انہیں والہانہ عشق تھا۔جب ہندوستان کی ڈاک پہنچتی تو سارے حالات دریافت فرماتے اور خیریت کا علم ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے حضور کی درازی عمر کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہتے۔ہر شخص کے سامنے اپنے احمدی ہونے کو فخریہ طور پر پیش کرتے۔اور جب کوئی شخص ملنے کے لئے آتا تو اس سے ضرور یہ سوال کرتے کہ کیا تم احمدی ہو۔اگر وہ کہتا کہ میں احمد ہی نہیں ہوں تو کہتے کہ فورا احمدی ہو جاؤ۔یہ دن پھر کہاں نصیب ہونگے۔لوگ جب اُن سے پوچھتے کہ کیا آپ احمدی ہیں ؟ تو زور سے کہتے اَنَا أَحْمَدِيٌّ غَضَبًا عَنْكُم تم خواہ کتنے ناراض ہو ئیں تو بہر حال احمد ہی ہوں۔حضرت الحاج عبد القادر آخری سانس تک ذکر الہی کرتے ہے اور آخری پیغام یہ دیا کہ میری طرف سے حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں السلام علیکم پہنچا دیا جائے۔آپ نے اپنے پیچھے ایک مخلص خاندان اور قربانی کرنے والے بیٹے اور پوتے چھوڑے۔آپ کے پوتے السید محمد صالح اعمودی پہلے احمدی ہیں جن کو فلسطین کی سرزمین سے وصیت کرنے کی توفیق ملی ہے بیرونی مبلغین احمدی کی آم اور روانگی برای مرد این صاحب ما باید بیانیه دار ا مولوی فاضل مصر اعلی البانیہ اور مصر وغیرہ میں قریباً پانچ سال تک تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۱۴ رامان هسته د مارچ شارٹ کو ساڑھے نو بجے صبح کی گاڑی سے واپس تشریف بیئے یہ چوہدری محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی مجاہد ہانگ کانگ (چین) در شهادت هن مرا بریل ) کو صبح کی گاڑی سے دارد قادیان ہوئے سیکھے مولوی عبد الغفور صاحب مولوی فاضل جالندہری مبلغ جاپان ۳۰ ر اخاء هنر (۳۰ اکتو برد کو دس بجے کی گاڑی جاپان سے قادیان پہنچے بے - ملک عزیز احمد صاحب مجاہد تحریک جدیار (معہ صدر الدین بینی صاحب سے ) جاوا کے لئے روانہ ہوئے ہے ا الفضل تمر له له الفضل در امان ها + شہادت ۳۲۰ الفضل دار ه: انفال دار نبوت ها آپ جزیرہ سیلے دین حاصل کرنے کے لئے قادیان تشریف لائے اور سات سال تک اس کی ہر کالت سے فیضیاب ہونے کے بعد ملک صاحب کے ساتھ عازمہ وطن ہوئے ( المفضل۔نبوت هه ند کو نمبر ه الفضل مهر نبوت ها هر نومبر ۱۹۳۱) صفر ۰۲ توبر ۱۹