تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 78
66 وہ دونوں ایک ایک حصہ کے نمائندہ ہیں۔لے نیز فرمایا :- " انصاراللہ کا وجود اپنی جگہ نہایت ضروری ہے۔کیونکہ تجربہ جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔اسی طرح امنگ اور ہوش ہو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔تعدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے، اور انصار اللہ نمائیندے ہیں تجربہ اور حکمت کے، اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کبھی کوئی قوم کا میاب نہیں ہو سکتی “ ہے اسی سلسلہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا :- میری عرض انصار اللہ اور غدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو میں مکمل کر دوں۔ایک دیوار انصار اللہ ہیں، دوسری دیوانہ خدام الاحمدیہ ہیں اور تعمیری دیوار اطفال الاحمر ہیں اور چوتھی دیوار بجنات اما ء اللہ ہیں۔اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسری سے علی وہ علیحدہ ہو جائیں بیر لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکے گی۔عمارت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی چاروں دیواریں آپس میں جڑی ہوئی ہوں۔اگر علیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چار دیواریں ایک دیوار جتنی قیمت بھی نہیں رکھتیں۔کیونکہ اگر ایک دیوار ہو تو اس کے ساتھ ستون کھڑے کر کے چھت ڈالی سیا سکتی ہے لیکن اگر ہوں تو چاروں دیواریں، لیکن بھاروں علیحدہ علیحدہ کھڑی ہوں تو ان پر چھت نہیں ڈالی جا سکے گی۔اور اگر اپنی حماقت کی وجہ سے کوئی شخص چھت ڈالے گا تو وہ گر جائے گی۔کیونکہ کوئی دیوار کسی طرف ہوگی اور کوئی دیوار کسی طرف۔ایسی حالت میں ایک دیوار کا ہونا زیادہ مفید ہوتا ہے بجائے اس کے کہ چار دیواریں ہوں اور چاروں علیحدہ علیحدہ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہیئے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو مفدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی میرے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے یا جو بھی امام ہوگا اس کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں اس لئے نہیں نہیں کئے کہ بابات "الفضل" کا ثبوت / تو بر ۱۳۲۲ میشه صفحه ۳ کالم ۳ - ۴ : ۱۳٢٤٤ ریشه صفحه الفضل» ۳۰ و فا/ جولائی یہ مفید ۳ کالم ۴ * وفا