تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 77
24 اور پھر تعداد بھی بڑھانی چاہیے۔اگر گلاب کا ایک ہی پھول ہو اور وہ دوسرا پیدا نہ کر سکے تو اس کی خوبصورتی سے دنیا کو کوئی قائدہ نہیں پہنچ سکتا۔فتح تو آئیندہ زمانہ میں ہونی ہے اور معلوم نہیں کب ہو۔لیکن نہیں کم سے کم اتنا تو اطمینان ہو جانا چاہئیے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے کہ دنیا احمدیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔احمدیت کو دنیا میں پھیلا دیتا ہمارے اختیار کی بات نہیں لیکن ہم اپنی زندگیوں کا نقشہ ایسا خوبصورت بنا سکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بظاہر اس کا اقرار کریں یا نہ کریں مگر ان کے دل احمدیت کی خوبی کے معتر ہو جائیں اور اس کے لئے جماعت کے سب طبقات کی تنظیم نہایت ضروری ہے ؟" لے ایک اور موقعہ پر فرمایا :- عوام سست ہوں تو حکام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں اور حکام سست ہوں تو عوام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔اسی نکتہ کو مدنظر رکھ کر میں نے جماعت میں مدام تعلق اور انصار اللہ دو الگ الگ جمائتین، قائم کیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں ایسا ہو سکتا ہے کہ کبھی "حکومت" کے افراد شست ہو جائیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی عوام شست ہو بھائیں۔عوام کی غفلت اور اُن کی نیند کو دور کرنے کے لئے جماعت میں ناظر وغیرہ موجود تھے۔مگر چونکہ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ کبھی ناظر سُست ہو جائیں اور وہ اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہ کریں۔اس لئے اُن کی بیداری کے لئے بھی کوئی نہ کوئی جماعتی نظام ہونا چاہیے تھا جو اُن کی غفلت کو دور کرتا اور اس غفلت کا بدل جماعت کو مہیا کرنے والا ہوتا۔چنانچہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ اسی نظام کی دو کڑیاں ہیں اور ان کو اسی لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں میں سمجھتا ہوں اگر عوام اور حکام دونوں اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں تو جماعتی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک نہایت ہی تنقید اور نوشکن لائحہ عمل ہوگا۔اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام نہیں، عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ جو عوام کے قائمقام نہیں نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے اور اس کا قدیم ترقی کی طرف اُٹھنے سے رک جائے۔جب بھی ایک غافل ہو گا دوسرا اُسے جگانے کے لئے تیار ہو گا۔جب بھی ایک سست ہوگا۔ا دوسرا اُسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا کیونکہ کے بعض کے دن ۱۳۲۴ پیش صفحه ۲ کام ۲۰ نفر حضرت مصلح موعود بر موقعه جات را نه ۱۳۷۱ مش - ارچ ۶۱۹۴۰