تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 73 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 73

۷۲ خالصاحب مولوی فرزند علی صاحب کو مقرر کرتا ہوں۔تین سکوٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھا دینے چاہئیں اور چالیس سال سے او پر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئیے۔یہ بھی دیکھ لینا چاہیئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہرورت ہو سکتی ہے۔اور جو شخص جس کام کے لئے موزوں ہو اس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا سیا سکتا ہے۔یا یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں دو چار دن لے لئے جائیں جس دن وہ اپنے آپ کو منظم کر لیں اسی دن میری منظوری سے نیا پریزیڈینٹ اور نئے سکوڈی مقرر کئے جا سکتے ہیں۔سر دست میں نے جن لوگوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے وہ عارضی انتظام ہے اور اس وقت تک کے لئے ہے جب تک سب لوگ منظم نہ ہو جائیں۔جب منتظم ہو جائیں تو وہ چاہیں تو کسی اور کو پریزیڈنہیٹ اور سنکر فرمی بنا سکتے ہیں مگر میری منظوری اس کے لئے ضروری ہوگی۔میرا ان دونوں مجلسوں سے ایسا ہی تعلق ہوگا جیسا مرتی کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی تخلیفہ وقت ہو۔میرا اختیار ہوگا کہ جب بھی مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلالوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہوں۔یہ اعلان پہلے صرفت قادیان، دالوں کیلئے ہے اس لئے ان کو میں پھر منتقبہ کہتا ہوں کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا۔سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے ہمیں چھوڑ کر الگ ہو جانا چاہتا ہوں۔ہر شخص کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونا پڑے گا۔اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امر کی بھی نگرانی رکھی بھائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا پابست در نہ ہو سوائے ان زمینداروں کے جنہیں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے۔گو ایسے لوگوں کے لئے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میں نماز باجماعت پڑھ سکیں۔