تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 72
ور چالیس سال تک عمر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر معالم الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے لے اور خدام الاحمدیہ کو یہ ارشاد فرمایا کہ اور ایک نہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں۔اطفال احمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بتائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کر کے ان کے لئے مناسب پر وگرام تجویز کیا جائے“ رس اعلان کے ساتھ ہی حضور نے پالیس سال سے اوپر کے احمدیوں کی ایک مستقل تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کا نام مجلس انصار اللہ " تجویز فرمایا۔اور فی الحال قادیانی میں رہنے والے اس عمر کے تمام احمدیوں کی شمولیت اس میں لازمی اور ضروری قرار دی۔انصار اللہ کی تنظیم کا عارضی پریزیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب کو نامزد فرمایا اور ان کی اعانت کے لئے مندرجہ ذیل تین سکرٹری مقررہ فرمائے :۔- حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم اے، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ہ حضرات خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب اس موقعہ پر حضرت امیر المومنین نے مجلس، انصار اللہ کی نسبت بعض بنیادی ہدایات بھی دیں جن کا تذکرہ حضور ہی کے الفاظ میں کیا جانا چاہیئے۔حضور نے فرمایا :- چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک المین بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو سچالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوئی۔ان کے لئے بھی نازمی ہو گا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اگر مناسب سمجھا گیا۔تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں ۳ دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لئے جا سکتے ہیں۔مگر بہر حال تمام بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر کسی استثنا کے قادیان میں منظم ہو جانا لازمی ہے۔مجلس انصار اللہ کے عارضی پریذیڈنٹ مولوی مشیر علی صاحب ہوں گے اور سکرڑی کے فرائض سرانجام دینے کے لئے مکیں مولوی عبدالرحیم صاحب درد ، چودھری فتح محمد صائب اور ا " بفضل" یکم ظہور اگست ۱۹ ت صفحه ۶ کالم ۳ : سفر " at