تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 71 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 71

فصل چیدم مجلس انصار اللہ کا قیام سید نا حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی نہ کی تحریک اور رہنمائی میں دسمبر ﷺ سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماءاللہ اور جنوری شملہ سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے نیلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش و خروش سے اپنی تربیتی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہو چکا تھا۔مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی ایسا بانی تھا جو اپنی پختہ کاری ایسے تجربہ در فراست کے اعتبار سے اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجا لا رہا تھا مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔حالانکہ اپنی عمر اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی طبقہ پر پڑتی تھی۔علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر قدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہو اور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاریں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت و تائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔حضرت علیقہ مسیح الثانی نے کو " مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھتے وقت بھی اس اہم ضرورت کا شدید احساس تھا۔مگر حضور چاہتے یہ تھے کہ پہلے مجلس خدام الاحمدیہ کی رضا کارانہ تنظیم کم از کم قادیان میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے تو بتدریج کوئی نیا عملی قدم اٹھایا جائے۔چنانچہ دو ڈھائی سال کے بعد جبکہ یہ مجلس حضور کی تجویز فرمودہ لائنوں پر چل نکلی اور نوجوانوں نے رضا کارانہ طور پر حضور کے منشار مبارک کے مطابق کام کرنے کرنے کا پوری طرح اہل ثابت کر دکھایا تو حضور نے ۳۶ رو فار جوں کی پیش کو اعلان فرمایا کہ +140' " آج سے قادیان میں غدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ میری ہوگا۔ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے که تفصیل تاریخ احمدیت " بعد نعیم صفحہ ۲۲۱۳ ۲۲۱ میں گذر چکی ہے ؟ دیکھئے تاریخ احمدیت جلد اشتم صفحه ۴۸۰۲۴۴۵ به