تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 63
اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے قبر میں رکھی۔تدفین مکمل ہو چکی تو حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور واپس تشریف لے آئے یہ حضرت امیر المومنین کا مفصل صاحبزادی صاحبہ کا انتقال چونکہ ایک جماعتی المیہ تھا اس لئے مضمون امتہ الودود کی یاد میں اس موقعہ پر نہ صرف بزرگان جماعت کی طرف سے معدہ مضامین شائع ہوئے بلکہ خود حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی نے " امتہ الودود میری بچی " کے عنوان سے ایک مفصل مضمون سپرد قلم فرمایا جس کے شروع میں لکھا کہ " سب ہی مرتے پہلے آئے ہیں۔کچھ کر رہے ہیں اور کچھ مر جائیں گے۔اور کچھ پیدا ہوں گے، پھر وہ بھی مریں گے۔اگلی نسلیں نئے جذبات لے کر آئیں گی۔ہمارے فانی تغذیات ہمارے ساتھ ختم ہو جائیں گے۔جو موتیں آج ہمارا دل زخمی کرتی ہیں وہ اُن کا ذکر ہنس ہنس کر کریں گے جن موتوں سے وہ ڈر رہے ہوں گے اُن کا خیال کر کے ہمارے دل میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔کیونکہ باوجود ہماری نسلوں میں سے ہونے کے زمانہ کے بعد کی وجہ سے ہم انہیں نہیں جانتے اور وہ ہم میں سے کئی کو نہ جائیں گے۔مثلا اگر بخدا تعالیٰ نے میری نسل کو قائم رکھا تو چھٹی ساتویں پشت کے کتنے بچے ہوں گے جو اپنی بڑی پھوپھی امتہ الودود کے نام سے بھی واقف ہوں گے۔مگر با وجود اس کے کہ وہ چھٹی ساتویں نسل کے بچے میری اپنی نسل سے ہوں گے۔ان کے غموں اور دکھوں کا احساس مجھے آج کس طرح ہو سکتا ہے اور ان کی خوشیوں میں میں کس طرح حصہ لے سکتا ہوں گر امتہ الودو جسے ہم پیار سے دُودی کہا کرتے تھے، جو گل ہم سے جدا ہوئی گو میری بھتیجی تھی ، مگر ان میری آئندہ نسلوں کے غم اس کے غم کو کہاں پہنچ سکتے ہیں۔کیونکہ خدا تعالے کا یہ ہی قانون ہے کہ زمانہ ، رشتہ اور تعلق یہ تین چیزیں مل کر دلوں میں محبت کے جذبات پیدا کیا کرتی ہیں۔پھر اگر ان میں سے کوئی ایک چیز زور پکڑ جائے تو وہ دوسری چیزوں کو دبا دیتی ہے۔اور جب تینوں جمع ہو جائیں تو جذبات بھی شدید ہو جاتے ہیں۔دُوری میری بھتیجی تو تھی۔مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اسے میرے دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی۔بعد کی نسلیں تو الگ رہیں۔میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارے تھے۔" الفضل ۲۲ احسان / جون ش صفحه ۲ کالم ۲۰۱ : ا ر احسان صفا: له