تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 58
۵۸ تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس تحریک کو کامیابی نہیں ہو سکتی“ اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ ایسے فتنے در اصل جماعت کی بیداری کے لئے ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو احمدیت میں داخلہ کے بعد روحانی ترقی کی طرف بہت کم توجہ کرتا ہے۔وہ اس طرح دنیا کے کاموں میں لگے رہتے ہیں جس طرح احمدیت میں داخلہ سے پہلے تھے۔اسلام دنیا کے کاموں سے روکتا نہیں بلکہ اجازت دیتا ہے۔انبیاء بھی یہ کام کرتے رہے ہیں۔حضرت داؤد علیہ السلام کے کام ثابت ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے کام ثابت ہیں۔وہ زراعت بھی کرتے تھے۔اولیاء اور صحابہ کا کام کرنا بھی ثابت ہے۔اسلام جس چیز سے منع کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسی کام کا ہو جائے۔بعض لوگ قادیان میں ہجرت کر کے آتے ہیں۔مگر یہاں آکر دنیا کے کاموں میں ہی لگ بھجاتے ہیں اور دین کا کام بالکل نہیں کرتے۔۔۔۔ان کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے فتنے پیدا کرتا رہتا ہے۔جب کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو ایسے کمزور لوگوں میں بھی جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ان مخالفوں کا خوب مقابلہ کرنا چاہیے۔خوب تقریریں ہوں اور رسالے لکھے جائیں بھالانکہ اگر وہ پہلے ہی تقریروں اند رسالوں کا انتظام کرتے تو وہ فتنہ پیدا ہی نہ ہوتا۔اور اب بھی اگر وہ اپنی اصلاح کر لیں اور اپنے اندر بیداری پیدا کر لیں تو اللہ تعالے فتنوں کے سلسلہ کو روک سکتا ہے۔یہ فتنے تو محض جنگانے کے لئے ہوتے ہیں۔جب کوئی شخص نیند سے بیدار نہ ہو تو ہم اسے ہلاتے ہیں۔پھر بھی ہوش میں نہ آئے تو پانی کا چھینٹا دیتے ہیں۔اور پھر بھی نہ بھاگے تو چار پائی الٹا دیتے ہیں۔اللہ تعالے بھی اسی طرح کرتا ہے“ آخر میں حضور نے نصیحت فرمائی کہ جماعت کو بچاہیئے کہ اپنے اندر بیداری پیدا کرنے، تبلیغ میں لگ جائے، نمازوں کی پابند ہو اور مہر لحاظ سے اپنی اصلاح کرے۔پھر یہ لوگ آپ ہی آپ خاموش ہو جائیں گے۔ان کی نہ تو علم کے لحاظ سے کوئی حیثیت ہے اور نہ خدا تعالے کی طرف سے ان کو کوئی تائید یا نصرت حاصل ہے۔وہ جانتے بھی نہیں کہ تقوی کیا ہے۔ان کو صرف بڑائی کا خیال ہے جماعت کو چاہیے کہ وہ ان کی باتوں سے ے رشتے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رض کی یہ فراست حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔یہ صاحب کچھ عرصہ بعد انگلستان چلے گئے دیقیہ حاشیہ اگلے صفحہ نہیں)