تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 657
۶۲۹ تا پنیز وجودوں کو اس کی درگاہ کی بھینٹ چڑھا دیں جماعت اللہ ہی سنبھالتا ہے۔اللہ ہی دلوں کو فتح کرتا ہے۔لیکن انسان جب اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے تو باقی کام اللہ تعالی خود کر دیتا ہے۔پس ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فرد اپنی قربانی اس طرح سے پیش کر دے جس طرح ابراہیم نے سمعیل کو پیش کر دیا تھا جس کے نتیجے میں محمد رسول اللہ سے اللہ علیہ وسلم جیسا وجود پیدا ہوا۔آج بھی اگر ہم میں سے ہر شخص سمعیل بن جائے تو جلد ہی ناممکن بات ممکن ہو جائے گی۔دنیا میں آج اس قدر غفلت ہے ، اتنی دہریت ہے۔اس قدر مادیت ہے۔مذہب سے اس قدر بے اعتنائی ہے کہ ایک منٹ کے لئے بھی کوئی خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی زبر دست تبدیلی دنیا میں پیدا ہو بجائے گی ہیں آؤ! ہم اپنی گردنوں کو خدا تعالیٰ کے دروازہ پر جھکا کر خود اپنے ہاتھوں سے اُن پر چھری پھیریں تاکہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی حکومت پھر دنیا نہیں قائم ہو جائے “ لے اسلام کی فتح رُوحانی کے لئے ان دردمندانہ دعاؤں کا سلسلہ دوسرے دن مامان مارچ ہم میں سے شروع ہو گیا۔/ سے حضرت خلیفہ ربیع الثانی اس روز نماز عصر کے بعد خدام کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے لیے اگلے روز حضور نے دعا کرنے سے قبل پچاردیواری کے دروازہ میں کھڑے ہو کر یہ وضاحت فرمائی کہ مہاری عرض یہاں آکر دعائیں کرنے سے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت سیح موعود علیات کام کے مزار کو دیکھ کہ ہمارے اندر رقت پیدا ہو اورہم خدا تعالیٰ سے عرض کریں کہ اے خدا ! ابی وہ شخص ہے جس نے اسلام کی خاطر پنی تمام زندگی وقف کردی یہ وہ شخص ہے جس پر تو نے الہابات نازل کئے کہ اس کے ہاتھوں سے اسلام کا اختیار ہو گا اور دنیا ایک نئے رنگ میں پلٹا کھائے گی۔اب یہ شخص فوت ہوچکا ہے اور ہمارے سامنے زمین میں دفن ہے۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ محبت رکھتے اور اس کے غلاموں میں شامل ہیں۔اس لئے اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اس ذمہ داری کو ادا کریں اور ان وعدوں کو جو تو نے کئے پورا کرنے کیلئے پنی جد و جہداور کوشکو کمال تک پہنچادیں بگریم کمزوری ہے اندر کی قسم کی کوتاہیاں پائی جاتی ہیں تو آپ اپنے فضل سے ہمارے کمزور کندھوں کو طاقت دے بہارے بات ان ہاتھوں کو مضبوط بنا اور ہماری کوششوں میں ایسی برکت پیدا فرما کہ تیرے وعدے پورے ہوں اور تیرا دین دنیا پر غالب آجائے“ کے له الفضل درامان / اری صفحه التام خلافت ثانیہ کے اکتیسویں سال اور دعوئی مصلح موجود کے سال اول کی پہلی سہ ماہی کے ایمان افروز واقعات اس جلد پر ختم ہوئے۔الحمد لله أَوَلَا وَ أَحَدًا فَظَاهِرًا وَبَاطِنَا وَعَلَيْهِ النَّحْلَانِ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النبي طالر و یا خاکسار شاه محمد شاهد منو شنونه انت رنو