تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 656 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 656

чка کے لئے دعا کرتے ہیں تو وہی دُعا ہمارے حق میں بھی قبول ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر ہم وہاں جا کر دعا کریں یہاں وہ شخص مدفون ہے جس کے ساتھ اللہ تعالٰی نے اسلام کے قبیلے کے وعدے کئے ہیں اور ہم کہیں کرے بعدا یہ وہ شخص ہے میں کے ساتھ تو نے اسلام کے غلبے کے وعدے کئے اور اب تو ان وعدوں کو پورا کر۔تو یہ دعا بہت جلد قبولیت حاصل کرلے گی جماعت میں ایک نئی زندگی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اُس جگہ پر جا کر دعا کریں تا اللہ تعالے کی غیرت کو بھڑکایا جائے اور تا اسلام کو ایسی نویج میستر آجائے جو اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دے۔اللہ تعالیٰ کے ارادے تو بہت وسیع ہیں مگر یکں کہتا ہوں کہ جس حد تک میرے ارادے ہیں اگر جماعت میں اتنی ہی تبدیلی پیدا ہو جائے تو موجودہ لاکھ دو لاکھ سے ہی ہم نہ صرف روحانی طور پر بلکہ جسمانی طور پر بھی دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔اگر چہ ہمارا مقصد روحانی فتح ہے جسمانی نہیں۔لیکن جہانتک طاقت کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں جسمانی فتح کے لئے بھی جس قدر ضرورت اخلاص اور عزم کی ہے اس قدر مقدار افراد کی نہیں ہے۔پس ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ جتنے لوگ ہم کو مل چکے ہیں پہلے ہم اُن کے دلوں کو دوبارہ فتح کریں۔ہیں جو دوست جا سکتے ہوں وہ عصر کے بعد میرے ساتھ بجھا کر دعا میں شامل ہو سکتے ہیں اور جو قادیان سے باہر ہیں وہ بامر مجبوری چالیس دن تک اس دعا میں عصر کے بعد اپنی اپنی جنگہ شامل ہو سکتے ہیں خواہ مسجد میں، خواہ اپنے گھروں میں خواہ دفتروں میں، خواہ بازار یا گذرگاہوں ہیں۔ام طا ہر احمد کے لئے میں نے چند دن جانا ہی تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو کچھ عرصہ کے لئے اس کی روح میں کچھ توحش سا پیدا ہو جاتا ہے پس اس توحش کو دور کرنے کے لئے اگر میت کے اعزہ اور اقرباء قبر پر جا کر دعا کرتے ہیں۔تو میں سمجھتا ہوں اس سے مُردہ کو اس دوسری زندگی میں سہولت میسر ہو سکتی ہے۔پس میں نے سوچا کہ جب اس غرض سے میں کچھ دن متواتر مقبرہ میں جاؤں گا تو ساتھ ہی یہ دوسرا کام بھی شروع کر دیا جائے اور اسلام اور سلسلہ کی فتوحات کے لئے دعا کرنے کے لئے چالیس دن مقرر کر لئے بائیں نامند اتعالیٰ کا فضل بھی نازل ہو اور ہمارے دلوں میں بھی تبدیلی ہو۔پچھلے دنوں مجھ پر بہت توجہ رہا۔لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ میں اس بوجھ کو اُٹھا سکوں لیکن اتم طاہر احمد کی وفات کے بعد میری طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔۔۔۔پس اگر میں باہر ہوں یا بیمار ہوں تو جو مقامی امام ہو یا نہیں کو میں مقرر کر دوں میری جگہ جا کر دعا کروائے جتنے دن میں دعا نہ کر سکوں گا ان کی کمی بعد میں پوری کردوں گا۔اس طرح چالیس دن تواتر کے ساتھ ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالے ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے