تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 653 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 653

۶۲۵ محبت کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔اس لئے وہی شخص ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو مجلس میں خاموشی کیتھ میٹھے۔اپنے قلب کو ہر قسم کے دنیوی مالوفات سے پاک کر دے اور اُسے اس طرح خالی کرے کہ جب اللہ تعالے کی طرف سے نور نازل ہو تو اس کا دل اس نور کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو ضمنی طور پر کوئی سوال پوچھ لینا منع نہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی لوگ سوالات پوچھ لیتے تھے۔قرآن کریم نے بھی سوالات کرنے سے گلیشہ نہیں روکا۔صرف یہ فرمایا ہے کہ اس رنگ میں ہونا پسندیدہ ہو سوال نہیں کرنا چاہیئے۔ورنہ اگر امام لوگوں کے سوالات کا جواب ہی دیتا رہے تو نیہ صورت بن سناتی ہے کہ گویا مقتدی امام کے اختیارات چھین رہے ہیں۔۔۔یہ تو امام کے دل میں خدا تعالیٰ نے ڈالنا ہے کہ کونسی باتیں قلب کی صفائی کے لئے ضروری ہیں۔اگر اس کو موقعہ ہی نہ ملے گا اور لوگ اپنے مشغلہ میں مشغول رہیں گے تو وہ خاموش رہے گا یہانتک کہ وہ وقت آجائے گا جو اعمال کے نتائج ظاہر ہونے کا ہوتا ہے اور چونکہ لوگوں نے محض باتوں میں اپنے وقت کو ضائع کر دیا ہو گا۔عملی رنگ میں اصلاح اور تربیت اور تزکیہ کے طور پر کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہوگا۔اس لئے نتائج اُن کے خلاف نکلیں گے اور وہ کف افسوس ملتے رہیں گے اے ی و بطور نمونہ معرفت و طریقت کے چند علمی اور روحانی نکات بیان کئے گئے ہیں ورنہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کے لئے دعا ، نبی اور رسول ، سپر چونکلزم ، حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی طرف منسوب تین جھوتے كم له آداب نماز، دعا اور مسمریزم ، ستاروں کی تاثیرات ، قرآن سے قال ، ظہر و عصر میں قرات مخفی رکھنے کی وجہ، نماز میں ہر اسم اللہ نہ پڑھنے کی حکمت ، نمازوں کے محسن اوقات ، احمدی بادشاہ اور اسلامی شریعیت ، حضرت اسمعیل علیایت لام کی عمر ہجرت کے وقت ، غیرہ بلا مبالغہ سینکڑوں ایسے اہم مسائل ہیں جن پر حضور نے اس اہم میٹس میں بالوضاحت روشنی ڈالی جن کی تفصیل مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم مولوی فاضل کی محنت و کاوش سے والفضل میں محفوظ ہو چکی ہے۔"" الفضل احسان جون میش من له الفضل " به احسان جون ش علا الفصل ارجون / احسان شما له / بار ة ، کو شد۔یکم نبوت / نومبر " 14 ار صلح / جنوری ۳۳۳ بیش صدا ۱۰ تبلیغ فروری ܀ " 每 " ار اتحاد القدیر فتح ادسمبر " ۱۳۲۴ Z " مایه شده ۱۳۱ اتحاد اکتوبر ایش داد " الی ۲۲ صلح جنوری له ما به اه مر گیا ۱۹ صلح جنوری ۱۹۷۵ ፊ