تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 650 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 650

ضرور ادا کیا کریں حضور کے اس ارشاد مبارک کے بعد سجد مبارک میں نماز ادا کرنے والوں کا غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔خصوصاً نماز مغرب کے وقت تو نمازیوں کی خوب چہل پہل اور رونق ہونے لگی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعوز ناز مغرب کے بعد رونق افروز ہوتے اور جماعت کے سلنے ایسے ایمان افروز رنگ میں نرمینی ، اخلاقی اور روحانی مسائل پر روشنی ڈالتے کہ روح وجد کرتی اور قلب و دماغ معطر ہو جاتے۔اس ضمن میں حضور وہ تربیتی اور اخلاقی امور خاص طور پر بیان فرماتے جو غلبہ اسلام کو قریب تر لانے کے لئے ضروری تھے۔شروع شروع میں حضور مسجد مبارک کے محراب ہی میں تشریف فرما ہوتے اور اپنے قیمتی ارشادات سے نوازتے تھے نگره در امان مارش کی حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور نورگ، زیارت کے بھی خواہش مند ہوتے ہیں اس لئے اگر اجازت ہو تو یہاں محراب میں کوئی اونچی سی جگہ بنادی جائے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا۔ایک بینچ بنوا لیا جائے تاکہ اس پر میں بھی بیٹھ جاؤں اور کچھ اور آدمی بھی بیٹھ جائیں" - چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں دیار (عمارتی لکڑی کی سات مسندیں سی بنوائی گئیں اور ساتھ ہی ایک چھوٹا سا گریل بھی بیر سندیں بوقت ضرورت نماز مغرب کے بعد مسجد مبارک کے پیچھے یا بالائی محراب کے سامنے بچھادی جاتی تھیں۔وسطی سند پر حضرت خلیفة السيح الثاني الصلح الا خود تشریف فرما ہوتے اور دائیں بائیں حضرت مولانا سید که در سر در شاه صاحت ، حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب یا بعض اور احباب !! اس طرح مشتاقان زیارت کو اپنے محبوب آقا کے دیدار عام کا شرف بھی نصیب ہونے لگا۔تاہم ابھی ایک ضرورت باقی تھی یعنی آلہ نشر الصوت کا انتظام ہو یہ اہم ضرورت سلسلہ کے ایک نہایت مخلص ایشار پیشہ اور مخیر دوست سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی (آف کلکتہ) نے پوری کر دی اور ۱۶ احسان ارجون دیش سے مجلس علم و عرفاں میں لاوڈ سپیکر کا بھی انتظام ہو گیا جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے دعا فرمائی کہ جس طرح انہوں نے ہماری آواز لوگوں تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے اللہ تعالے ان کو بھی توفیق دے کہ وہ خدا تعالے کی آواز سن کر اس پر مزید عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں " له الفضل " از شہادت اپریل له مش صفحه ۱ - له الفضل و شہادت را پیله ی صفر یم کالم 1 : لة یا ہلے ہی ایک ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے " اصحاب احمد مجلد پنجم مصر سوم حاشیہ منہ میں ذکر کیا ہے یہ سب سنین اور گریبا مسجد مبارک قاریان میں اب تک محفوظ ہے اور قریشی فضل حق صاحب درویش و زن کی تحویل میں ہیں۔محترم ملک صاحب نے اپنی اس کتاب میں ان کے معین طول و عرض کے ساتھ ایک مفصل تھا کہ بھی درج کیا ہے ؟ کے ان چوکیوں پر بزرگوں کے علاوہ بعض دفعہ مہمان بھی بیٹھ جاتے تھے۔چنانچہ ہجرت مئیر میش کا واقعہ ہے کہ بعض سکھ اور ہندو دوست تجلس میں حاضر ہوئے خبر پر نور نے نوجوانوں سے ارشاد فرمایا کہ وہ آنے والے جہانوں کو جگہ دیں۔چنانچہ نوجوان اٹھ گئے اور ان کی بجائے چوکیوں پہ یہ غیر مسلم امہ گئے (الفضل اور ہجرت امی مش مفروم کالم لهم الفضل 19 احسان جون سالار مش صفحه ۲ کالم )۔14