تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 648
۶۲۰ کی پوری کوشش کریں گے لیکن اللہ تعالے اُسے بخیر و عافیت قادیان پہنچا دے گا۔اور یہ پیشگوئی قریباً ، و سالی کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوئی۔ہر انصاف پسند کو سوچنا چاہئیے کہ کیا ۳۷ سال قبل ایسی بات بیان کر دینا جو اپنے وقت پر صحیح ثابت ہو کسی انسان کی طاقت میں ہے۔بید ان لوگوں کے لئے بھی قابل غور بات ہے جو پیغامی کہلاتے ہیں۔وہ بتائیں کہ اس پیشگوئی کے مطابق کون ہے جو دہلی گیا۔مخالفین نے اُسے ضرور پہنچانے کی پوری کوشش کی اور اللہ تعالے اُسے صحیح و سالم واپس قادیان سے آیا۔یہ لوگ تو اب قادیان آتے ہی نہیں بلکہ بہشتی مقبرہ کے لئے جو میتیں کر رکھی تھیں وہ بھی منسوخ کرائیں اُن میں سے اگر کوئی قادیان آئے تو اس کی نگرانی کرتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دیکھا کہ دھلی گئے اور خیریت سے واپس آئے ہیں۔اور یہ رویا بتاتا ہے کہ قادیان میں ہی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل ہوں گے اور جن کا دہلی جانا اور یہ سلامت واپس پہنچتا خود مصر مسیح موعود علیہ اسلام کا جانا اور صحیح و سالم واپس پہنچنا ہو گا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔الْمُؤْمِنُ يَرَى أَوْ يُرَى لَهُ جس روز میں نے دہلی جانا تھا۔اسی روز یا اس سے ایک روز قبل خلیفہ صلاح الدین صاحب کا خط مجھے دہلی سے ملا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ قادیان سے خبر آئی ہے کہ خلیفتہ المسیح نگینہ سے بخیریت واپس قادریانا پہنچ گئے ہیں۔نگینہ انگو سٹی کے مرکز میں ہوتا ہے اور دہلی ہندوستان کا مرکزی شہر ہے۔دہلی کو ہندوستان میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نگینہ کو انگوٹھی میں۔گویا اس خواب میں بتا دیا گیا کہ حضرت یح موعود علی اسلام نے جو رویا ۱۳ جنوری تشنشاہ کو دیکھا تھا وہ اسی سفر کے متعلق تھا۔وہی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۳۷ سال قبل دکھائی گئی تھی۔جلسہ سے چند روز قبل آپ کے ایک مرید کو دکھائی گئی۔یہ گویا ایک اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔تو ہمارے لئے ہر حال میں خوشی ہی خوشی ہے۔سر بلا کیں قوم را حق داده اند و زیر آن گنج کریم بنهاده اند اسی طرح اس فساد کے ذریعہ سے میرا ایک الہام بھی پورا ہوا جو دہلی کے جلسے سے چند دن پہلے ہوا تھا جو یہ ہے بَیدُ اللهِ فَوْقَ ایدییم خدا کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں کے اوپر- اس الہام میں کے فساد کے موقعہ پر چندا احمدی سینکڑوں پر بھاری ثابت ہوںگے اور ہر جنگان و فتح نصیب ہوگی نام رش علی یک ساله سلم " الفضل " اجرت منی له مش صفحه ۲ تا ۵ :