تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 647
حملہ کیا تو وہاں احمدیوں نے مقابلہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند آدمی سینکڑوں کو بھگا کرئے گئے۔غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو نظرہ کا بہت احساس تھا۔بعض تو گھبراہٹ میں کا اپنے لگیں۔مگر اس وقت آمد می خورتوں نے بھی بہادری دکھائی اور ان کے ارد گرد قطار باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔اگر کوئی اندر آیا بھی تو ہم مقابلہ کریں گی۔حکومت ہند کے ایک سیکر ٹری صاحب کی اہلیہ صاحبہ بھی جلسہ میں تھیں۔اُن کو جب موٹر میں بٹھایا گیا تو اُن کے، ایک طرف میری لڑکی بیٹھ گئی اور دوسری طرف ایک اور غیر احمد می مفاتون جو بہا در دن کی تھیں لئے تا اگر باہر سے پتھر وغیرہ آئیں، تو ان کو نہ لگیں اور اس طرح موٹر میں بیٹھا کر ان کو گھر پہنچایا گیا۔توالت لا کے فضل سے اس موقعہ پر عورتوں نے بھی ثابت کر دیا کہ اگر موقعہ آئے تو وہ بجھان دینے سے دریغ نہیں کرتیں بہر حال دارت تک یہ شور و شر ہوتا رہا۔آخر جب عورتیں چلی گئیں۔تب میں نے افسروں سے کہلا بھیجا کہ اب ہم نے جاتا ہے کیا آپ لوگ ہمارے لئے رستہ بنا دیں گے یا ہم خود بنائیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم خود آپ لوگوں کو بحفاظت پہنچائینگے چنانچہ پولیس گارد ہمارے آدمیوں کے آگے پیچھے ہو کر انہیں محفوظ جگہ پہنچا آئی۔۔۔" سیدنا الصلح الموعود نے مندرجہ بالا دافع بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ بشارتیں جلسہ کی کامیابی سے تعلق تین آسانی یاری می شود و در مالت کاکوئی جو بھی نہ تا کہ کبھی اس شورش وجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے راحت اور ایمان میں ترقی کاسامان مہیا فرما دیا تھا حضرت مسیح موعود علی اسلام فرماتے ہیں کردیا میں دیکھا کہ دلی گئے ہیں اور بخیریت واپس آئے ہیں" پر الہاما یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے الْحَمْدُ للهِ الَّذِى أوصلنى ميعا تذکرہ صفحہ ۵۳۶) یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہو فساد اور دشمن کے حملے سے صحیح وسالم بچا کر واپس لے آیا۔اس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ سلام دہلی تشریف لے ہی نہیں گئے آخری سفر جو آپ نے دہلی کی طرف کیا وہ عنہ کا ہے تو یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا مثیل دہلی جانے گا۔لوگ اس پر پتھراؤ کریں گے یہ تو سنگباری کی گورا ، یہ دراصل مجھ پر تھی جسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی مسند پر بٹھایا ہے براللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ آپ کو یعنی آپ کے ظہر کو صحیح و سالم واپس قادیان سے آئیگا۔پس جو کچھ ہوا اس میں اس ماہ سے بھی ہماری فتح اور کامیابی ہے۔سلسلہ کی صداقت کا ایک ثبوت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مامور من اللہ اور خدا القائے کا پیارا ہونے کا ایک ثبوت ہے۔ہر پھر جو وہ لوگ ہم پر مار رہے تھے وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی او مليني صحيحا کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا اور ہر مچھر شاہد تھا اس امر کا کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اللہ تعالنے کی طرف سے تھے اور خدا تعالیٰ آپ سے ہم کام ہوتا تھا یہ جوکہاگیا کہ مجھے مین و سالم واپس پہنچا دیا اس کے مطلب یہ ہے کہ بعض دوسروں کو نقصان پہنچے گا۔مگر ان لوگوں کی اصل غرض تو مجھے نقصان پہنچانا تھی۔لیکن جہاں سیالکو کے پتھراؤ میں تین پھر مجھے بھی آگے وہاں دہلی میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک بھی نہیں لگا۔ی ی ی ی ی ی ی یتیمی میں بتایا گیا تا کہلایا اور کترین