تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 45
صاحب پریزیڈنٹ جماعت ہے گ۔ب تحصیل و ضلع لائل پور جو تقریباً دس سال غالباً ۹۳۳ار سے ۱۹۴۴ء تک حیدر آباد میں مقیم رہے تھے مجھ سے ملنے یہاں اسکندر آباد آئے تھے۔ان کے قیام حیدر آباد کے زمانے کی باتیں پھل نکلیں۔انہوں نے بغیر میرے ذکر کرنے کے خود کہا کہ وہ ایک مرتبہ نواب بہادر یار جنگ سے ملے تھے اور اس موقعہ پر نواب صاحب موصوف نے ان سے وہی بات کہی تھی جوئیں نے اپنے بیان میں کہی ہے۔دوسری بات جو مولوی صاحب موصوف نے بیان کی وہ یہ تھی کہ نواب صاحب موصوف نے حضرت مصلح موعود رضی الہ عنہ کی تقریر سیر روحانی " سے تعلق میں ان سے کہا تھا کہ وہ اس تقریر سے اس قدر متاثر تھے کہ اس کو انہوں نے تین دفعہ پڑھا تھا۔نواب صاحب موصوف نے غالباً فروری یا مارچ ۱۹۳۶ء میں دہلی میں سر محمد یعقوب کی ایک دعوت میں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی زبانی اس تقریمہ کا خلاصہ سنا تھا بچنا نچہ حیدر آباد واپس آن کر ایک علمی صحبت میں بہت تفصیل کے ساتھ انہوں نے یہ خلاصہ سنایا تھا ( نواب صاحب کا حافظہ ایسا تھا کہ وہ کسی کی گفتگو یا تقریر کو تقریباً لفظ بلفظ شستا دیا کرتے تھے۔خود اُن کی اپنی جو تقریریں شائع شدہ ہیں وہ تقریر کے بعد انہوں نے لفظ بلفظ لکھوائی تھیں۔حضرت مصلح موعود کی یہ تقریر سیر روحانی " جب شائع ہوئی تو محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس کی ایک جلد میں پر انہوں نے نواب صاحب کا نام اور اپنے دستخط فرمائے تھے میرے ذریعے نواب صاحب کو بھجوائی تھی اور نواب صاحب اس کے مطالعہ کے بعد اکثر اپنی مجلسوں میں اس پر بڑے تعریفی کلمات کہا کرتے تھے جماعت احمدیہ سے گہرے روابط نواب بہادر یار جنگ کے جماعت امید سے واہم کا یہ عالم تھا کہ پروفیسر الیاس برنی د د ولادت ۱۸۹۴ -- وقات (۱۹۵۸ء) نے ۲۲ تبلیغ / فروری اش کو شاہ حسین میاں پھلواری شریف کے نام ایک خط میں نواب 51970 صاحب اور جماعت احمدیہ کے تعلقات پر بڑی تشویش و اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا :- ن (ضلع میانوالی) + نے اس کا تذکرہ جلد ہشتم میں ہو چکا ہے ؟ ک مکتوب سیٹھ محمد اعظم صاحب ( بنام مولف تاریخ احمدیت محوره ۱۲۵ هجرت می سی سی / ۴۲ ہو زنگ کا لونی اسکندر آباد ضلع میانوالی :