تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 631
خدا ! ان لوگوں نے جو کچھ کیا، نادانی سے گیا، نا واقعی سے کیا محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھلانے کی وجہ سے استہزاء کیا مگر اے خدا ! تو ان کو معاف کر اور ان کو ہدایت دے اور اُن کے قلوب کو سچ کے قبول کرنے کے لئے کھول دے اور جس طرح آج میں نے اُن کو دین کے ساتھ استہزاء کرتے دیکھا۔میں اپنی آنکھوں سے اُن کو دین کے لئے قربانیاں کرنے کی غرض سے آگے بڑھتا ہوا دیکھوں۔انہوں نے آج اس بات پر استہزاء کیا ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور میں پر استہزاء کا اب تک نہ ہوتا مجھے حیران کر رہا تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے آج میری یہ خواہش بھی ان لوگوں کے ذریعہ پوری کر دی۔کیونکہ انہوں نے خوب مخالفت کی اور ہنسی اڑائی۔اس قسم کا سلوک اب تک کسی اور شہر میں ہمارے ساتھ نہیں ہوا تھا۔سوئیں ان لوگوں کے لئے دعا کرتا ہوں۔جنہوں نے میری اس خواہش کو پورا کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق ہے ان کو ہدایت دے اور ایمان بخشے۔اس وقت اس جلسہ میں لدھیانہ کے لوگ غالباً بہت کم ہوں گے۔زیادہ تو بیرونی لوگ ہیں لیکن اگر یہاں ایک بھی لدھیانہ کا شخص ہے تو میں اس کے ذریعہ اہل لدھیانہ کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ اسے گدھیا کے لوگو ! تم نے میری مخالفت کی اور یکن تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔تم نے میری موت کی خواہش کی مگر میں تمہاری زندگی کا خواہاں ہوں۔کیونکہ میرے سامنے میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہے۔آپ جب طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو شہر کے لوگوں نے آپ کو پتھر مارے اور ہاہاہا کر کے شہر سے نکال دیا۔آپ زخمی ہو کہ واپس آرہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا۔اگر آپ فرمائیں تو اس شہر کو الٹا کر رکھ دوں۔مگر میرے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیرے ماں باپ میری جان میرے جسم اور میری روح کا ذرہ ذرہ آپ پر قربان ہو ، فر مایا کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئیے۔یہ لوگ ناواقف تھے ، نادان تھے ، اس لئے انہوں نے مجھے تکلیف دی۔اگر یہ لوگ تباہ کر دیئے گئے تو ایمان کون لائے گا ؟ سواے اہل لدھیانہ اجنہوں نے میری موت کی تمنا کی۔میں تمہارے لئے زندگی کا پیغام لایا ہوں ابدی زندگی اور دائمی زندگی کا پیغام ایسی ابدی زندگی کا پیغام جس کے بعد فنا نہیں اور کوئی موت نہیں۔میں تمہارے لئے خدا تعالے کی رضا کا پیغام لایا ہوں جسے