تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 44
توا صبا کے تاثرات مضر و او برادر یا جنگ و جان سلمانی در تاکستان سے رخص حجت تھی وہاں آپ جماعت احمدیہ کی اسلامی تنظیم اور اسلامی خدمات سے کی ذات مبارک کے متعلق سے نہایت درجہ متاثر اور حضرت سید نا خلیفہ المسیح الثانی کے از سد مداح تھے۔چنانچہ جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی کا بیان ہے کہ حضرت مصلح موعود کی آمد حیدر آباد (اکتوبر شانہ ) کے موقع پر نواب بہادر یار جنگ بہادر الہ دین بلڈنگ سکندر آباد پر جہاں حضور فروکش تھے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے۔اور اس موقع پرمسلمانان حیدرآباد حیدر آباد کے مسائل پر حضور نے تخلیہ میں طویل گفتگو کی تھی۔۔۔۔نواب بہادر یار جنگ بہادر مجلس اتحاد المسلمین مملکت اسلامیہ آصفیہ کے صدر تھے۔ان کے طویل دور صدارت میں راقم الحروف ان کی مجلس عاملہ کا سینٹر رکن تھا۔کئی مرتبہ اپنی مجلس عاملہ کے اجلاسوں میں انہوں نے اپنے اسس خیال کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں دو شخصیتوں کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ دماغی صلاحیتوں سے متاثر تھے۔ایک حضرت امام جماعت احمدیہ کی دوسری قائد اعظم محمد علی جناح کی۔ان کے اس بیان اور تاثہ کے گواہ پاکستان میں اُن کے اور میرے قدیم ساتھی اور دوست اور استحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے رکن احمد عبد الله المسدوسی مصنف " مذاہب عالم " اور " افریقہ۔ایک چیلنج " وغیرہ ہیں۔حال میں مجھ سے مسدوسی صاحب نے حضرت مصلح موعود کی وفات پر نواب بہادر یار جنگ کے مذکورہ بالا تاثر کا ذکر کیا تھا۔ان کے ذہن میں حضور کے نام کے ساتھ دوسرا نام مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کا تھا۔بہر حال میری اور ان کی یادداشت میں حضرت امیر المومنین کا نام مشترک ہے۔ہو سکتا ہے کہ نواب صاحب نے کسی موقعہ پر مفتی اعظم فلسطین کا بھی نام لیا ہو “ کے سیٹھ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی توضیح میں اس امر کا ذکر کیا تھا کہ نواب بہادر یار جنگ نے کئی مرتبہ اس امر کا ذکر کیا تھا کہ وہ دو اصحاب کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ دماغی صلاحیت سے متاثر تھے۔ایک حضرت امام جماعت احمدیہ اور دوسری قائد اعظم محمد علی جناح کی ذات محسن اتفاق سے - ارمنی کو مولوی محمد لقمان نے مکتوب جناب سینیٹر محمد اعظم صاحب حیدر آبادی (بنام مولف تاریخ احمدیت " مرقومه ۱۹ ہجرت امی یہ مش از سی / ۴۲ ہو زنگ کالونی اسکندر آباد (ضلع میانوالی)۔