تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 43 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 43

۴۳ نواب بہادر یار جنگ نواب بہادر یار جنگ کل ہند شہرت کے ممتاز قائد مملکت حیدر آباد کی واحد نمائیندہ مسلم سیاسی جماعت انجمین استحاد المسلمین" کے صدر اور جماعت احمدیہ ہونے کے علاوہ آل انڈیا مسلم لیگ کی شاخ کل ہند ریاستی مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور " لسان الامت" کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے بہترین اور بے تکلف دوستوں اور گہرے رفقاء میں سے تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح کی نظر میں اُن کی شخصیت کتنی بلند پایہ تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگ سکتا ہے کہ ایک بار نظام حیدر آباد رکن نے قائد اعظم سے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ " بہادر یار جنگ حیدر آباد کے ایک جاگیر دار اور جمعدا ہیں۔میں انہیں شہر بدر کر سکتا ہوں ، انہیں سزا دے سکتا ہوں قائد اعظم نے اس کے جواب میں فرمایا :- کیا میں اسے آپ کا چیلنج سمجھوں ؟ اگر یہ واقعہ ہے تو میں اسے اپنے اور مسلمانان ہند کی طرف سے قبول کرتا ہوں۔میں اسے جانتا ہوں کہ یہاں بہادر یار جنگ کی وہی حیثیت ہے جس کی آپنے ابھی توضیح کی ہے لیکن اس کے سوا بھی ایک مقام ہے جس پر آپ نے غور نہیں کیا۔وہ نہ صرف حیدر آباد بلکہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے رہنما سمجھے جاتے ہیں۔اس لئے ان کے متعلق ہو کچھ بھی ہوگا اسے لازما سارے مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر محسوس کریں گے۔پھر میں جانتا ہوں کہ جاگیر اور منصب سے زیادہ انہیں قوم کی عظمت اور خود آپ کی سلامتی عزیز ہے تاکہ حیدر آبادی مسلمان اقلیت کی زد میں نہ آجائیں۔آپ سے يه جو کچھ کہا گیا ہے وہ نتیجہ ہے اس سازش کا جو حیدر آباد میں قومی تحریک کو کچلنے کے لئے کی جا رہی ہے۔" تحریک پاکستان کو برطانوی ہند کے طول و عرض میں پھیلانے اور مقبول بنانے میں قائد اعظم کے دوش بدوش جن زعمائے مسلم لیگ نے نمایاں حصہ لیا، ان میں نواب بہادر یار جنگ مسلمہ طور پر صف اول میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔جون (احسان ۱۳۲۳ میش) میں آپ نے انتقال کیا۔جس پر قائد اعظم نے فرمایا کہ ریاستی مسلم لیگ کے صدر کا انتقال نہیں ہوا بلکہ میرا ایک بازو ٹوٹ گیا ہے۔لے کتاب " قائد اعظم میری نظر میں " صفحہ ۲۱۲ - ۲۱۳ : نے رسالہ نقوش (لاہور) خطوط نمبر 1 صفحہ ۲۸ کمیوں کے ممتاز لیڈر چودھری غلام عباس صاحب نے اپنی کتاب کشمکش میں لکھا ہے کہ جن دنوں تو اب بہادر یار جنگ کی وفات ہوئی قائد اعظم سرینگر میں فروکش تھے۔میں نے نواب صاحب کی وفات کے المناک حادثہ کی اطلاع دی تو پانچ منٹ کے بعد قائد اعظم نے فرمایا کہ غالباً پہلی دفعہ مجھے کسی کی موت سے اتنا شدید صدمہ ہوا ہے پھر نواب صاحب کی خوبیاں بیان کیں۔اس کے بعد مرحوم کی بیگم کو بذریعہ تار پیغام تعزیت بھیجوایا " ر کشمکش" صفحه ۲۴۷ ناشر اردو اکیڈیمی لوہاری دروازہ لاہور)