تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 611
۵۸۶ دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہی موجود ہوں اور کوئی موعود قیامت تک نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اور موجود بھی آئیں گے اور بعض ایسے موعود بھی ہوں گے جو صدیوں کے بعد پیدا ہوں گے۔بلکہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دُنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہو گا، نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔پس آنے والے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اپنے اپنے وقت پر آئیں گے۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس شہر ہوشیار پور میں سامنے والے مکان میں نازل ہوئی جس کا اعلان آپ نے اس شہر سے فرمایا۔اور جس کے متعلق فرمایا کہ وہ نو سال کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔وہ پیشگوئی میرے ذرایعیہ سے پوری ہو چکی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق ہو سکے حضرت خلیفہ السیح الثانی الصلح الموعود کی اس پہلی پر متعارف تقریر کے بعد مبلغین سلسلہ کی باری باری مختصر تقریریں ہوئیں جن میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ ۲۰ فروری سامانہ کی پیشگوئی میں جو یہ بشارت دی گئی تھی کہ خدا تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیا سیدنا امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود کےذریعہ وہ بڑی شان و عظمت کے ساتھ پوری ہو چکی ہے اس تقریب پرشین اصحاب نے تقریریں کیں ، اُن کے نام یہ ہیں :- -۱- حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ( انگلستان) حضرت ملک غلام فرید صاحب بے ایم۔اے (جرمنی) جناب محمد ابراہیم صاحبت ہے ہی۔اے بی ٹی (سنگری) حضرت مولوی محمد دین صاحب (شمالی امریکہ) سلة " الفضل " تبليغ / فروری سایش صفحه ۱۰ کالم ۲ تا ۴ سے یہ تقریریرین الفصل " ۲۵ تبلیغ / فروری تا ۲ / امان/ مارچ دیش میں چھپ گئی تھیں