تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 610
۵۸۵ حضور نے دعائیں پڑھنے کے بعد فرمایا۔" یہ اللہ تعالے کی وہ دعائیں ہیں جن میں انبیاء اور اُن کی ابتدائی جماعتوں کے لئے خدا نے ایک طریق راہ بیان فرمایا ہے۔اس کے بعد میں قرآنی الفاظ میں ہی اپنے رب کو مخاطب کر کے اس کے حضور نذیر عقیدت پیش کرتا ہوں۔دوست بھی ان الفاظ کو دہراتے جائیں“ چنانچہ حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ اپنی زبان مبارک سے ادا فرمائے :- امَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَ يَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّيَّيم لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ : (المان ع و) تمام مجمع نے ایک بار پھر اشکبار آنکھیں اور درد مند قلوب کے ساتھ ان الفاظ کو دہرایا اور اس وقت یوں محسوس ہوا کہ آسمان ہے انوار الہی انزول ہو رہا ہے اور فرشتے دلوں کو ہر قسم کی میل کچیل سے صاف کر کے انہیں پاکیزہ و مظہر بنارہے ہیں لیے ان دعاؤں اور جناب باری تعالیٰ۔یا اصلا المودود کا پرشوکت خطاب اب ہوشیارپور کو اب عقیدت کے بایستید اصلی مورد اظہار المصلح الموعود نے ایک نہایت و بعد آفرین اور بچہ شوکت تقریر فرمائی جس میں پیشگوئی مصلح موعود کے پس منظر پر روشنی ڈالنے کے بعد بتایا کہ یہ پیشگوئی کس طرح نہایت مخالف حالات کے باوجود خارق عادت رنگ میں ظہور پذیہ ہو سیکی ہے۔اس سلسہ میں حضور نے اس انکشاف سے متعلق اپنی تازہ رویا بھی بڑی شرح وبسط سے بیان کی اور پھر فرمایا۔میں آج اسی واحد اور تہت رخدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے قبضہ و تصرف میں میری جانا ہے کہ میں نے جو رویا بتائی ہے وہ مجھے اسی طرح آئی ہے۔الا ماشاء اللہ کوئی خفیف فرق بیان کرنے میں ہو گیا ہو تو علیحدہ بات ہے۔میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے کشفی حالت میں کہا أَنَا المَسَحُ المَوْهُودُ مَثِيلُهُ وَخَلِيفَتُهُ اور میں نے اس کشف میں خدا کے حکم سے یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے انہیں سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔پس میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موجود بیٹا قرار له الفضل " ۱۹ تبلیغ فروری پیش صفحه ۵-۰۶ / ۱۳۳۵