تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 607 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 607

سلام ۵۸ حضرتی با اصلح الموعود کی تقریر اور صاحب کے بعد سیدنا حضرت مریم امینی خلیفت ایسی الثانی اصلی نا المومنین الموعود رضی اللہ عنہ تقریب کے لئے کھڑے ہوئے اور تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی حضور اهدنا الصراط المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ علیم کے قرآنی الفاظ پر پہنچے تو حضور نے دوبارہ انہی بابرکت الفاظ کو نہایت سوز ، تضرع اور ابتہال کے ساتھ اللهُمَّ يَا رَبِّ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ کہو کہ دوہرایا۔ان الفاظ میں اور حضور کی آواز میں جو اس وقت انہی تصرت کے ماتحت معلوم ہوتی تھی ایسا درد بھرا ہوا تھا کہ سننے والوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔اُن کے قلوب درد سے بھر گئے، رقت غالب آگئی اور گریہ وزاری کا عالم طاری ہو گیا۔اور انہوں نے بھی اپنے دل میں انہی الفاظ کو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دہرایا۔اراں بعد حضور نے مندرجہ ذیل ادعیہ ماثورہ پڑھیں۔جنہیں جماعت کے احباب نے بھی حضور کی آواز کے ساتھ ساتھ نہایت رقت اور سوز سے ڈسہرایا :- ا رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا انتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ، ويقره رسوع ٢٠ ) ربَّنَا أَمَنَا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِرِينَ (آل عمران ع ) واسرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَيْتُ أَندَامَنَا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ) (آل عمران ١٩٤) ربنا انَنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ أنْ أمِنُوا بِرَبِّكُمْ مَنَارَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَنَنَا مَعَ الأَبْرَارِ، رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدَ تَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْرِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادِ ، آل عمران ع ) ر ۲۰ ه رَبَّنَا لا تزغ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الوهاب : (آل عمران ١٤ ) یہ دعائیں حضور کی زبان مبارک سے کچھ ایسے درد اور سوز کے ساتھ بلند ہوئیں کہ تمام مجمع کی آنکھیں آنسو سے لبریز ہوگئیں۔دل اللہ تعالے کی خشیت اور اس کی محبت سے بھر گئے اور آہ و بکا کی آواز ہر طرف سنائی دینے لگی۔