تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 600 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 600

۵۷۹ کو جس پر موجود کی بشارت دی تھی۔وہ ظاہر ہوچکا ہے۔چنانچہ اس مقصد کے لئے یہ بہش کے شروع میں چکا ہوشیار پور، لاہور ، لدھیانہ اور دہلی میں پبلک جلسے منعقد کئے گئے یہ چاروں جلسے الگ الگ شان کے حامل اور نہایت درجہ روح پرور ، ایمان افروز اور کامیاب جلسے تھے بین میں خود حضرت سید نا المصلح الموعود نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور اپنی پر شوکت تقریروں میں اپنے دعوئی مصلح موعود کا حلفیہ اور پر سبلال اعلان فرمایا اور اہلِ ہند پر حجت تمام کر دی۔اعلان مصلح موعود کے سلسلہ میں پہلا جلسہ عام ۲۰ فروری ۲۲ ۲۰۱ تبلیغ ۱۳۲۳ پیش کو ہوشیار پور جلسہ ہوشیار پور تا میں منعقد ہوا جلسوں کا یہ سلسلہ چونکہ خالص اعلائے کلمتہ اللہ اور بندا کے ایک زندہ و تابندہ نشان کے لئے جاری کیا جا رہا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے امر تبلیغ افردی رمیش کو جماعت کے نام حسب ذیل پیغام دیا :- برادران! السلام علیکم ورحمته الله و بركاته ام آپ ہوشیار پور کے جلسہ کی نسبت اعلان پڑھ چکے ہیں۔اس جلسہ کی غرض صرف یہ ہے کہ میں جگہ دنیوی حالات کے خلاف ہوتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رحمت کے نشان کی خبر دی تھی جس کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچیگا اسی جگہ آج یہ اعلان کیا جائے کہ وہ پیشگوئی نہایت شان کے ساتھ پوری ہو گئی ہے۔پس یہ موقعہ خشیت اور تفوئے اللہ کے اظہار کا ہے نہ کہ دنیوی تقریبوں پر جیس طرح مظاہر ہے کئے جاتے ہیں ، اس کا۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ صرف وہی لوگ اس جلسہ میں شامل ہوں جو دعائیں کرنے والے استغفار کرنے والے حمد کرنے والے اور ذکر کرنے والے ہیں اور اُس جگہ پر جب تک رہیں اس امر کا تعبت کریں کہ نہ بلا وجہ بات کریں ، نہ ہنسی مذاق کریں ، نہ ہنسی تمسخر تھے کام لیں بلکہ تمام وقت سنجیدہ رہیں اور دعاؤں اور استغفار میں مشغول رہیں۔پس اس بات کا خیال رہے کہ لڑکے اور چھوٹی عمر کے نوجوان وہاں نہ جائیں نہ وہ جو اپنی طبیعتوں پر قابو نہیں رکھ سکتے، نہ وہ جو تھوڑی دیر خاموش بیٹھنا پڑے تو گھبرا جاتے ہیں۔بلکہ وہ جب کہیں جو اس ارادہ کے ساتھ گھر سے نکلیں کہ کلی طور پر خاموشی سے شمولیت کریں گے اور سب وقت اللہ تعالٰی لے یہ پیغام حضرت اقدس نے لاہور عنایت فرمایا جہاں حضور ان دنوں حضرت ام ظاہر کی علالت کے باعث مقیم تھے۔