تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 597
۵۷۶ یوم جزا کو قریب تر لانے کے لئے ضروری تھے وہ ہم نے سب مہیا کر دیئے اور اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان ہم نے جمع کر لئے۔پس اب قریب ترین زمانہ میں اس فتح کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔قریب ترین زمانہ میں اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے راستے دنیا میں کھل بنائیں گے مگر یہ بعید ہے۔وہ راستہ جو ابھی تم نے طے کرتا ہے اور جس پر چل کر تم نے اس روز ہوا سے فائدہ اُٹھانا ہے وہ ابھی بہت بعید ہے۔تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے ابھی اس راستہ پر چلتا بھی شروع نہیں کیا اور کئی ایسے ہیں جو اس راستہ پر چل تو پڑے ہیں مگر انہوں نے سفر ابھی بہت کم طے کیا ہے گویا ہم نے تو اپنا حصہ پورا کر دیا مگر تم نے اپنے حصہ کو پورا نہیں کیا۔اب دیکھو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے دو شخص آپس میں ٹھیکہ کریں اور ایک شخص دوسرے سے سمجھوتہ کرے کہ تم امرتسر سے دس میل کے فاصلہ پر اتنے لاکھ من سوتا پہنچا دو۔وہاں تک سونا پہنچانا تمہارا کام ہے۔اس کے بعد میرا کام شروع ہو گا۔اور میں اس سونے کو اٹھا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔اب اگر دوسرا شخص اس معاہدہ کے مطابق ٹھیک مقررہ تاریخ کو امرت سر سے دس میل کے فاصلے پر سوتا لا کر رکھ دے مگر یہ شخص ابھی قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ہی ہو تو جانتے ہو۔اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ یہی ہو گا کر چور آئیں گے اور اس سونے کو اٹھا کر لے جائیں گے۔ڈاکو آئیں گے اور اس سونے پر قبضہ کر لیں گے۔اور جب یہ شخص وہاں سونا لینے کے لئے پہنچے گا تو اس جگہ کو بالکل عالی پائے گا۔اللہ تعالے بھی اس الہام میں اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نے ابھی اس راستہ کو ملے ہی نہیں کیا جس پر چل کر ان انعامات کے تم مستحق بن سکتے ہو۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس دن کو جو تمہاری فتح اور کامیابی کا دن ہے، تمہارے قریب لا چکے ہیں۔پس روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے " میری طرف سے جو کچھ ظاہر ہونا تھا اس کی تیاریاں آسمان پر مکمل ہو چکی ہیں۔مگر تم نے جو کچھ کرنا تھا اس کے لئے ابھی کئی منزلیں طے کرنی باقی ہیں۔مجھے جب یہ الہام ہوا تو میں نے اس وقت سوچا کہ گو میں جماعت کو بھلدی جلدی آگے کی طرز فر اپنا قدم بڑھانے کی تحریکات کر رہا ہوں جس سے بعض لوگ ابھی سے گھبرا اٹھے ہیں کہ کتنی جلدی جلدی نئی سے نئی تحریکیں کی جا رہی ہیں۔کبھی وقت بھائیداد کی تحریک کی جاتی ہے، کبھی وقعت زندگی کی تحریک