تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 40
۴۰ پنجم۔پھر میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اس نے نہ صرف مجھ سے بلکہ سب دنیا ہی سے انصاف بلکہ محبت کا معاملہ کیا ہے۔اس نے مجھے اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے ہی کا سبق نہیں دیا بلکہ اس نے مجھے دنیا کی ہر چیز سے انصاف کی تلقین کی ہے اور اس کے لئے میری مناسب رہنمائی کی ہے۔اس نے اگر ایک طرف ماں باپ کے حقوق بتائے ہیں اور اولاد کو اُن سے نیک سلوک کرنے بلکہ انہیں اپنے ورثہ میں حصہ دار قرار دینے کی تعلیم دی ہے تو دوسری طرف انہیں بھی اولاد سے نیک سلوک کرنے ، انہیں تعلیم دلانے ، اعلیٰ تربیت کرنے ، اچھے اخلاق سکھانے اور ان کی صحت کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اپنے والدین کا ایک خاص حد تک وارث قرار دیا ہے۔اسی طرح اس نے میاں بیوی کے درمیان بہترین تعلقات قائم کرنے کے لئے احکام دیئے ہیں۔اور انہیں آپس میں نیک سلوک کرنے اور ایک دوسرے کے بعد بات کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔وہ کیا ہی زرین فقرہ ہے جو اس بارے میں بانی اسلام نے فرمایا ہے کہ وہ شخص کس طرح انسانی فطرت کے حسن کو بھول جاتا ہے جو دن کو اپنی بیوی کو مارتا اور رات کو اس سے پیار کرتا ہے۔اور فرمایا تم میں سے بہتر اخلاق والا وہ شخص ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہے۔اور پھر فرمایا عورت شیشہ کی طرح نازک مزاج ہوتی ہے۔تم جس طرح نازک شیشہ کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرتے ہو اسی طرح عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیا کرو۔پھر اس نے لڑکیوں کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔انہیں تعلیم دلانے پر خاص زور دیا ہے۔اور فرمایا ہے جو اپنی لڑکی اچھی تعلیم دیتا ہے اور اس کی اچھی تربیت کرتا ہے۔اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔اور وہ لڑکیوں کو بھی ماں باپ کی جائیداد کا دارث قرار دیتا ہے۔پھر اس نے حکام سے بھی انصاف کیا ہے اور رعایا سے بھی۔وہ حاکموں سے کہتا ہے کہ حکومت تمہاری ائیگا نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔پس تم ایک شریف آدمی کی طرح اس امانت کو پوری طرح ادا کرنے کا خیال رکھو۔اور رعایا کے مشورہ سے کام کیا کرو۔اور رعایا سے کہتا ہے کہ حکومت خدا تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر تم کو دی ہے۔اپنے حاکم انہیں چنو جو حکومت کرنے کے اہل ہوں۔اور پھر اُن لوگوں کا انتخاب کر کے اُن سے پورا تعاون کرو۔اور بغاوت نہ کرو۔کیونکہ اس طرح تم اپنا گھر بنا کہ اپنے ہی ہاتھوں اس کو برباد کرتے ہو۔