تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 41
اور اس نے مالک اور مزدور کے حقوق کا بھی انصاف سے فیصلہ کیا ہے۔وہ مالک سے کہتا ہے کہ جب تو کسی کو مزدوری پر لگائے تو اُس کا حق پورا دے اور اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ادا کی۔اور جو تیرا دست نگر ہو، اُسے ذلیل مت سمجھ کیونکہ وہ تیرا بھائی ہے جس کی نگرانی اللہ تعالٰی نے تیرے ذمہ لگائی ہے اور اُسے تیری تقویت کا موجب بنایا ہے۔میں تو اپنی طاقت کو نادانی سے آپ ہی نہ توڑے۔اور مزدور سے کہا ہے کہ جب تو کسی کا کام اُجرت پر کرتا ہے تو اس کا حق دیانتداری سے روا کر اور سستی اور غفلت سے کام نہ لے۔اور وہ جسمانی صحت اور طاقت کے مالکوں سے کہتا ہے کہ مزدوروں پر سلم نہ کرو اور جسمانی نفس والوں پر ہنسو نہیں بلکہ شرافت یہ ہے کہ تیرے تمہایہ کی کمزوری تیرے رحم کو اُبھارے نہ کہ تجھے اس پر پہنائے۔اور وہ امیروں سے کہتا ہے کہ غریبوں کا خیال رکھو اور اپنے مالوں میں سے پچالیسواں حصہ ہر سال حکومت کو دو تا دہ اُسے غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کرے۔اور جب کوئی غریب تکلیف میں ہو تو اُسے سُود پر روپیہ دے کہ اس کی مشکلات کو بڑھاؤ نہیں بلکہ اپنے اموال سے اس کی مد کرو کیونکہ اس نے تمہیں دولت اس لئے نہیں دی کہ تم عیاشی کی زندگی بسر کرو بلکہ اس لئے کہ اس کے ذریعہ سے دنیا کی ترقی میں حصہ لے کہ اپنے لئے ثواب دارین کماؤ۔مگر وہ غریب سے بھی کہتا ہے کہ اپنے سے امیر کے مال پر لالچ اور حرص سے نگاہ نہ ڈال کہ یہ تیرے دل کو سیاہ کر دیتا ہے اور صحیح قوتوں کے حصول سے محروم کر دیتا ہے بلکہ تم خدا تعالے کی مدد سے اپنے اندر وہ قوتیں پیدا کمر د جن سے تم کو بھی ہر قسم کی ترقی حاصل ہو۔اور حکومت کو ہدایت دیتا ہے کہ غرباء کی اس جدو جہد میں اُن کی مدد کرے۔اور ایسا نہ ہونے دے کہ مال اور طاقت صرف چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے۔اور وہ ان لوگوں سے جن کے باپ دادوں نے کوئی بڑا کام کر کے عزت حاصل کر لی تھی جس سے ان کی اولاد بھی لوگوں میں معزہ ہو گئی، کہتا ہے کہ تمہارے باپ دادوں کو اچھے کاموں سے عزت ملی تھی ، تم بھی اچھے کاموں سے اس عزت کو قائم رکھو اور دوسری قوموں کو ذلیل اور ادنیٰ نہ مجھو کہ خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کو براہ بنایا ہے۔اور یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہیں عزت دی ہے وہ اس دوسری قوم کو بھی عزت دے سکتا ہے۔پس اگر تم نے ان پر ظلم کیا تو کل کو وہ قوم تم پر ظلم