تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 573
۵۵۲ میت اٹھا کر اُن کے ہاتھوں پر لکھ دی اور جب وہ مقام پر پہنچا کہ باہر آگئے تو حد پر اینٹی چینی گئیں۔اس کام میں مودی عبد المنان صاحب عر خلف حضرت خلیفہ ایسے الاول شریک رہے۔بعد میں رکھنے کے وقت سے مٹی ڈالنے تک حضرت میرالمومنین نہایت رقت سے مسنون دعائیں فرماتے رہے اور دعائیں کرتے ہوئے حضور نے تمام مجمع سمیت دعا فرمائی۔لاہور، امرتسر، گورداسپور، جالندھر، کپور نقلہ ، فیروز پور وغیرہ کے بہت سے احباب نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لئے پہنچ چکے تھے۔نیز ارد گرد کی جماعتوں کے احباب بھی بکثرت شریک ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و اسلام کے مزار کے احاطہ میں جنازہ کے ساتھ داخل ہونے پر اول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے مزار پر حضرت اميرالمومنين المصلح الموعود نے دعا فرمائی اور پھر حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کے مزار پر۔آخر واپسی سے قبل ایک بار پھر تمام مجمع سمیت مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دعا فرمائی اور واپس تشریف لے آئے۔دوسر سب لوگ بھی اس محبوب اور خادم اسلام کو جس نے ساری عمر اور اپنی ساری طاقتیں سلسلہ کی خدمت میں حضرت کر دیں، سپر و خاک اور حوالہ بنی را کر کے واپس آگئے بلے حضرت میرمحمداسحاق صاحب نے بے شمار خوبیوں کے حال فضا ختر میر محمدالحق صاحب کے شمائل اخلاق شخصیت اور خدمت دین میں محویت کا اک کامل نمونہ ھے دن راست خدا اور اس کے پاک رسول صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر اُن کا شغل تھا صدر نجمین احمدیہ کے نہایت اہم صیغہ ضیافت کے ناظر اور دارالشیوخ کے ناظم اعلیٰ، جماعت احمدیہ کے قاضی مجلس افتاء کے رکن ، مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر مجلس تعلیم کے مبر، مجلس ارشاد کے صدر کے فرائض با حسن وجوہ ادا کرنے کے علاوہ مسجد اقصی میں روزانہ بخاری شریف کا درس دیتے تھے جس میں ایسی محبت اور رقت سے رسولِ کریم صل اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے کہ دل گداز ہو جاتے تبلیغی اجتماعات اور جلسوں کے روح رواں ہوتے تھے۔اور نوجوانوں کے دین کے سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی دلکش اور نہایت موثر پیرایہ میں تلقین فرماتے تھے۔باطل کے خلاف حق کی شمشیر برہنہ تھے بگو علیمی و فروتنی، عجز و انکسار اور مروت د ملنساری میں بھی آپ عدیم المثال وجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے قوت افہام و تفہیم اور بیان میں ایسا ملکہ عطافرمایا تھا کہ بد ترین معاند بھی قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔اخلاق ایسے اعلیٰ کہ دشمن بھی تعریف میں رطب اللسان تھے۔رضی نظر میر صاحب کی بلند پای اور انقلاب انگیز تصانیف و تالیفات حضرت میر صمدانی صاحب منی شناخته سله " الفضل ۲۱ رامان / مار بیش صفحه ۲۰۱ + نے حسب ذیل لٹریچر بطور یادگار چھوڑ اے وبجانے کے بعد حضور نے