تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 572 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 572

اهه اور حضرت سیدنا الصلح الموعود نے یہ تقریر اس رقت اور سوز سے فرمائی کہ منصور کی آواز ڈک ڈک بھاتی تھی۔ٹنے والوں کی چیخیں نکل رہی تھیں۔تقریر کے بعد حضور نے نہایت خشوع و خضوع سے دعا کرائی۔اس تقریر کے بعد حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کو غسل دینے کا انتظام کیا گیا۔غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد گیسٹ ہاؤس کے بیرونی حصہ میں جنازہ لایا گیا اور رات بھر کے لئے پہرہ دار مقر کر دیئے گئے اور حضور تا ۱۲ بجے کے قریب اپس تشریف لائے۔اس حادثہ کی اطلاع جماعتہائے احمدیہ لاہور، امرتسر، جالندھری الدین، ویران آن بیرونی جماعتوں کو حادثہ کی اطلاع ہی پور نگری سیالکوٹ، گجرات وغیره که برای تار نوادرات دے دی گئی۔سنه اگلے روز حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود پانچ بجے کے قریب نماز عصر تغیر کا روح فرسا اور دلخراش منظر مسجد مبارک میں پڑھ کر گیسٹ ہاؤس میں تشریف لائے جہاں حضرت میر صاحب کی نعش مبارک کی تھی۔اس وقت آخری بار اس مقدس اور خدا نما انسان کی زیارت کرائی گئی۔چہو دیکھنے سے یہ علوم نہ ہوتا تھا کہ فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس طرح نظر آتا تھا کہ نہایت آرام اور اطمینان کی نیند سو رہے ہیں بلکی کسی مسکراہٹ، جو ہر وقت آپ کے چہرہ مبارک پر رہتی تھی اس وقت بھی موجود تھی۔آخر حضرت امیر المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے ارکان نے جنازہ اٹھایا اور تھوڑی دور لے بھانے کے بعد باغ تک احباب جماعت نهایت اخلاص و محبت کے جذبات کے ساتھ کندھا دیتے اور باری باری ثواب حاصل کرتے گئے۔نماز جنازہ حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے حضرت مسیح موعود کے باغ میں اسی جگہ پڑھائی جہاں چند روز قبیل حضرت سیده ایم طاہر احمد صاحبہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور جہاں ابھی سفیدی کے وہ خطوط موجود تھے جو خود حضرت میر صاحب نے ہی صفیں سیدھی باندھنے کے لئے لگوائے تھے صفیں کھڑی ہونے کے بعد تعداد کا اندازہ لگایا گیا تو مردوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار معلوم ہوئی۔نماز جنازہ نہایت رقت اور سوز کے ساتھ پڑھی گئی اور پھر جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ اس نام کے مزار کے احاطہ میں شرقی سڑک کی جانب سے لے جایا گیا۔قبر حضرت نانی اماں صاحبہ (والدہ ماجدہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب والده بعد حضرت میر محمد الحق صاحب کے پہلو میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں کھودی گئی۔میت کو لحد میں رکھنے کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت میر محمد اسمعیل صاحب، حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ، سید داؤد احمد صاحب دختر میر صاحب کے سب سے بڑے فرزند) تمہ ہے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے افراد نے ساله الفضل و ارامان زمار 8 میش صفحه با کالم :