تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 568 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 568

کر فرمانے لگے۔بالکل فکر نہ کرو یکیں اچھا ہوں۔مجھے کچھ تکلیف نہیں ہے۔اور اس طرح ان کی تسلی کی۔اتنے میں اپنیما تیار کیا گیا اور کئی دفعہ کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔بعدہ دن کے کھانے کی قے آئی۔پھر چند جلد غنودگی بڑھنے لگی مگر قے جاری رہی سخت درد سرقے اور غفلت کی وجہ سے نصف شب کے قریب خیال ہوا کہ یہ یوریمیا ( UAEMIA) ہے پیشاب ربڑ کی نلکی سے نکالا گیا تو اس میں کافی البیومن ( ALBUMIN) تھا مگر بعض اور علامات سے رات کے دو بجے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دماغ کا پانی یعنی (CEREBRO - SPINAL FLUID) کر میں سوراخ کر کے نکالا جائے۔وہ نکالا گیا تو بہت زور سے دھار باندھ کر اور دودھ کی طرح سفید یعنی پیپ سے ملا ہوا نکلا جس میں خوردبینی امتحان کرنے پر ہر قسم کے پیپ کے جراثیم پائے گئے معلوم ہوا کہ وہ پانی جو ہمیشہ ناک سے نکلا کرتا تھا اور دماغ کے اندر اور پردوں میں اس کا منبع تھا وہ سپٹک ( SEPTIC) ہو گیا ہے اور سرسامی کیفیت غفلت، تشنج ، قے اور آنکھوں کا ایک طرف کو پھر جانا اور تیلیوں کا سکڑ جانا سب اسی وجہ سے ہے۔اور صورت درم دماغ ( MENINEITIS ) کی قائم ہو گئی ہے۔ایک دفعہ بیہوش ہو کر پھر ہوش نہیں آیا۔تیز بخار اس دوران میں برا بر چڑھا رہا۔ان چوبیس گھنٹوں میں انسان دعا اور دوا سے کوشش اور جدوجہد کرتے رہے گر تف پیر الہی انکار کرتی رہی " رامان / مارچ کی شب اور ۷ ارامان / مارچ کا دن نہایت تشویش میں کے حضرت میر صاحب کے آخری لمحات گزرا، عون عام کے ذریعہ سب حدیں تک آپ کی علالت کی اطلاع گڑنا۔اعلان احمدیوں پہنچانے کی کوشش کی گئی سب نے نہایت ہی درد اور کرب کے ساتھ دعا کی بعلاج معالجہ میں بھی ہر ممکن کوشش کی گئی۔گھر چھے بجے شام کے بعد نبض بہت زیادہ کمزور ہوگئی اور خطرہ بہت بڑھ گیا۔حافظ محمد رمضان صاحب بلند آواز سے قرآن کریم کی دعائیں پڑھنے لگے۔نیز سورہ یسین کی تلاوت کرتے رہے حضرت امیرالمومنین الصلح الموعود بھی دوسرے صحن میں قرآن کریم پڑھتے رہے۔پھر حضور اس کمرہ میں تشریف لے آئے جہاں حضرت میر صاحب تھے اور اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بہت دیر تک وقت بھری آواز میں قرآن کریم کی دعائیں فرماتے رہے۔یہ نظارہ نہایت ہی رقت انگیز تھا۔کمرہ کے اندر اور باہر دگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں۔اس وقت حضور نے فرمایا۔اگر تو یہ رونا دعا کا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ گناہ ہے حضور پھر باہر تشریف لے آئے چونکہ نماز مغرب کا وقت ہو چکا تھا حضور نے نماز کی تیاری کرنے کا ارشاد فرمایا۔ابھی نماز شروع نہ ہوئی تھی کہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب پر عالم نزرع طاری ہو گیا۔حافظ محمد رمضان سلة " الفضل يكم بناء التوبه ی صفحه * " الفضل برامان / مار له پیش صفراء