تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 557
۵۳۸ میں اللہ کی مرضی تھی۔یہ پھر بھی روتی ہے۔اے میرے رب! اے میرے رب ! جس کی چھوٹی بچی نے تیری رضار کے لئے اپنی ماں کی موت پر غم نہ کیا۔کیا تو اسے اگلے جہاں میں ہر غم سے محفوظ نہ رکھے گا۔اسے تیرے رحیم مقدا تجھ سے ایسی امید رکھنا تیرے بندوں کا حق ہے اور اس امید کو پورا کرنا تیرے شایان شان ہے" اس درد بھرے مضمون کے آخر میں حضور نے تیمارداری کرنے والوں کا ذکر کر کے اُن کے لئے جناب الہی میں دعائیں کیں۔چنانچہ فرمایا :۔مریم بیگم کی بیماری میں سب سے زیادہ شیر محمد خانصاحب آسٹریلیا والوں کی بیوی اقبال بیگم نے خدمت کی۔اڑھائی جہینہ اس نیک بخت عورت نے اپنے بچوں کو اور گھر کو بھلا کر رات اور دن اس طرح خدمت کی کہ مجھے و ہم ہونے لگ گیا تھا کہ کہیں یہ پاگل نہ ہو جائیں۔اللہ تعالے اُن پر اور اُن کے سارے خاندان پر اپنے فضل کا سایہ رکھے۔پھر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہیں جن کو ان کی بہت لمبی اور متواتر خدمت کا موقعہ ملای شیخ بشیر احمد صاب نے کئی ماہ تک ہماری جہاں نوازی کی اور دوسرے کاموں میں امداد کی میاں احسان اللہ صاحب لاہوری نے دن رات خدمت کی یہانتک کہ میرے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالئے ان کا خاتمہ بالخیر کرے حکیم سراجدین صاحب بھائی دروازہ والوں نے بر ایران کی ہمراہی عورت کا اڑھائی ماہ تک کھانا پہنچایا اور خود بھی اکثر ہسپتال میں آتے رہے۔ڈاکٹر معراجدین صاحب کو رعشہ کا مرض ہے اور بوڑھے آدمی ہیں۔اس حالت میں کانپتے اور ہانپتے اور لرزتے ہوئے جب ہسپتال میں آکر کھڑے ہو جاتے کہ میں نکلوں تو مجھ سے مریضہ کا حال پوچھیں تو کئی دفعہ اللہ تعالٰی کے اس احسان کو دیکھ کر کہ مجھ نا کارہ کی محبت اس نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔لاہور کے اور بہت سے احباب نے نہایت اخلاص کا نمونہ دکھایا اور بہت سی خدمات ادا کیں سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آبادی کے خاندان نے اخلاص کا ایسا بے تغیر نمونہ دکھایا کہ حقیقی بھائیوں میں بھی اس کی مثال کم ملتی ہے۔حیدر آباد ایسے دور دراز مقام سے پہلے اُن کی بہو اور بیٹیاں دیر تک قادیان رئیں اور بار بار لاہور جاکر خیر پوچھتی رہیں۔آخر جب وہ وطن واپس گئیں تو عزیزم سیٹھ محمد اعظم اپنا کا روبار چھوڑ کر حیدر آباد سے لاہور آبیٹھے اور مرحومہ کی وفات کے عرصہ بعد واپس گئے۔ڈاکٹر لطیف صاحب کئی دفعہ دہلی سے دیکھنے آئے۔میرے خاندان کے بہت سے افراد نے بھی محبت سے قربانیاں کیں۔مگر اُن پر تو حق تھا۔میں ان لوگوں کو سوائے دنیا کے اور کیا بدلہ دے سکتا ہوں۔اسے میرے رب ! تو ان سب پر اور ان سب پر جن کے نام میں نہیں لکھ سکا یا جن کا مجھے علم بھی نہیں اپنی برکتیں اور فضل نازل کرے۔سے ملک احسان اللہ صاحب (سابق مبلغ مغربی افریقہ) مراد ہیں :