تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 551 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 551

لم رسم الله گر بلدی آرام آگیا۔اس بیماری میں بھی جاتے آتے آپ ریل میں فرش پر لیٹتیں اور میری دوسری بیویوں کے بچوں کو سیٹوں پر لٹوایا۔وہلی سے واپسی کے معا بعد مجھے سخت دورہ کھانسی بخار کا ہوا جس میں مرحومہ نے بعد سے زیادہ خدمت کی۔ان گرمی کے ایام میں راست اور دن میرے پاس رہتیں اور اکثر پاخانہ کے برتن خود اٹھائیں اور خود صاف کرتیں۔کھانا بھی پکائیں نٹی کہ پاؤں کے تلوے ان کے گھس گئے۔ہمیں جاگتا تو ساری ساری رات جاگتیں۔سو جاتا اور کھانسی اٹھتی تو سب سے پہلے وہ میرے پاس پہنچ چکی ہوتی تھیں۔جب کچھ افاقہ ہوا اور ہم ڈلہوزی آئے تو وہاں بھی با در پیخانہ کا انتظام پہلے انہوں نے لیا اور کوئٹی کو باقریہ سجایا۔یہاں اُن کو پھر شدید دورہ بیماری کا ہوا۔مگر میری بیماری کی وجہ سے زیادہ تکلیف کا اظہار نہ کیا۔جب مجھے ذرا اور افاقہ ہوا، اور میں چنبہ گیا تو با وجود بیمار ہونے کے اصرار کے ساتھ وہاں گئیں اور گھوڑے کی سواری کی کیونکہ کچھ عرصہ سفر میں ڈنڈی نہ ملی تھی۔میں نے سمجھایا کہ اس طرح بھانا مناسب نہیں۔مگر حسب ستور یہی جواب دیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں سیر نہ کروں میں ضرور جاؤں گی۔آخر ان کی بیماری کی وجہ سے میں نے دوسروں کو روکا اور اُن کو ساتھ لے گیا۔اس کے بعد رمضان آگیا اور ہندوستانی عادت کے ماتحت قافلہ کے لوگوں نے غذا کے بارہ میں شکایات شروع کیں۔اور ملازم آخر ملازم ہوتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ مرحومہ نے اس جان لیوا بیماری میں رات کو اٹھ اٹھ کر تین تین چار چار سیر کے پر اٹھے سحری کے وقت پکا کر لوگوں کے لئے بھیجے جس سے بیماری کے مقابلہ کی طاقت جسم سے بالکل جاتی رہی ہیں تو کمزور تھا۔روزے نہ رکھتا تھا جب مجھے علم ہوا میں نے اُن کو روکا۔مگر اس کا جواب انہوں نے یہی دیا کہ کیا معلوم پھر ثواب کمانے کا موقعہ ملے یا نہ ملے اور اس عمل سے نہ روکیں۔ہم واپس آئے تو ان کی صحت ابھی کمزور ہی تھی۔تین چار ہفتوں کے بعد ہی پھر شدید دورہ ہو گیا۔میں اس وقت گردے کے درد سے بہار پڑا ہوا تھا۔اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ دورہ ایسا سخت ہے کہ بچنے کی امید نہیں۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ مریم کی موت میری آنکھوں کے سامنے آئی۔میں پہل تو نہ سکتا تھا۔اس لئے جب میرا کہ خالی ہوا چارپائی پر اوندھا گر کر میں نے اپنے رب سے عاجزی اور انکسار کے ساتھ اُن کے لئے دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس وقت موت ٹل گئی اور میں اچھا ہو کہ وہاں جانے لگ گیا۔کچھ دنوں بعد مجھے پھر نقرس کا دورہ ہوا۔اور پھر وہاں جانا چھٹ گیا۔اس وقت ڈاکٹروں کی غلطی سے ایک ایسا