تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 549 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 549

۵۳۰ مریم ایک بہادروں کی عورت تھیں جب کوئی نازک موقعہ آتائیں یقین کے ساتھ اُن پر اعتبار کر سکتا تھا۔اُن کی نسوانی کمزوری اس وقت دب جاتی۔چہرہ پر استقلال اور عزم کے آثار پائے جاتے اور دیکھنے والا کہ سکتا تھا کہ اب موت یا کامیابی کے سوا اس عورت کے سامنے کوئی تیسری چیز نہیں ہے۔یہ مر جائے گی مگر کام سے پیچھے نہ ہٹے گی عضور کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔انہیں صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے یا سلسلہ کے لئے کوئی خطرہ یا بدنامی ہے اور وہ شیرنی کی طرح ایک کر کھڑی ہو جاتیں اور بھول جاتی اپنے آپ کو ، بھول جائیں کھانے پینے کو بھول جاتیں اپنے بچوں کو بلکہ بھول جاتی تھیں مجھے کو بھی ، اور انہیں صرف وہ کام ہی یاد رہ جاتا تھا۔اور اس کے بعد جب کام ختم ہو جاتا۔تو وہ ہو تیں یا گرم پانی کی بوتلیں تین میں لیٹی ہوئی وہ اس طرح اپنے درد کرنے والے جسم اور متورم پیٹ کو چاروں طو سے ڈھانپے ہوئے لیٹ باتیں کہ دیکھنے والا مجھتا تھا یہ عورت بھی کوئی بڑا اپریشن کروا کر ہسپتان سے آئی ہے اور وہ کام ان کے بیمار جسم کے لئے واقعہ میں بڑا پریشن ہی ہوتاتھا۔مهمان نواز انتہا درجہ کی حق ہر ایک کو اپنے گھر میں جگہ دینے کی کوشش کرتیں اور حتی الوسع جلسہ کے موقعہ پر بھی گھر میں ٹھہرنے والے مہمانوں کا لنگر سے کھانا نہ منگوائیں خود تکلیف اُٹھا ئیں بچوں کو تکلیف دیتیں لیکن بہمان کو خوش کرنے کی کوشش کرتیں بعض آپنے پر اس قدر بوجھ لاد لیتیں کہ میں بھی خفا ہوتا کہ آستر نگارخانہ کا عملہ اسی غرض کے لئے ہے تم کیوں اس قدر تکلیف میں اپنے آپ کو - - - ڈال کر اپنی صحت برباد کرتی ہو۔آخر تمہاری بیماری کی تکلیف مجھے ہی اُٹھانی پڑتی ہے، مگر اس بارہ میں کسی نصیحت کا ان پر اثر نہ ہوتا۔کاش اب جبکہ وہ اپنے رب کی مہمان ہیں اُن کی یہ مہا نوانیاں انکے کام آجائیں اور وہ کریم میزبان اس وادی غربت میں بھٹکنے والی روح کو اپنی جنت الفردوس میں مہمان کر کے لیے بہائے۔استہ ابھی مرحومہ کی وفات پر لڑکیوں میں تعلیم کا رواج پیدا کرنے کے لئے میں نے ایک تعلیمی کلاس جاری کی۔اس میں مریم بھی داخل ہو گئیں مگر ان کا دل کتاب میں نہیں کام میں تھا۔وہ اس بوجھ کو اُٹھا نہ سکیں اور کسی نہ کسی بہانہ سے چند ماه بعد تعلیم کو چھوڑ دیا گر حافظہ اس بلا کا تھا کہ اس وقت کی پڑھی ہوئی بعض عربی کی نظمیں اب تک انہیں یاد تھیں۔ابھی چند ماہ ہوئے نہایت خوش الحانی سے ایک عربی نظم مجھے سنائی تھی۔جب میں نے تعلیم نسواں کے خیال سے سارہ بیگم مرحومہ سے شادی کی تو مرحومہ نے خوشی سے اُن کو اپنے ساتھ رکھنے کا وعدہ کیا مگر اس وعدہ کو شاہ نہ سکیں اور آخر الگ الگ انتظام کرنا پڑا۔یہ یہ بھی رقابت ساره بیگم کی وفات تک رہی مگر بعد میں ان کے بچوں سے ایسا پیار کیا کہ وہ بچے ان کو اپنی ماں کی عارت عزیز سمجھتے تھے "