تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 548
۵۲۹ ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم ہے۔میں نے کہا۔اُس نے تو پردہ کیا تھا۔اگر سامنے بھی ہوتی تو میں اُسے کب پہچان سکتا تھا۔شاہ کے بعد اس طرح مریم دوبارہ میرے ذہن میں آئی۔اب میں نے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا مریم کی شادی کی بھی کہیں تجویز ہے۔جس کا جواب مجھے یہ ملا کہ ہم سادات ہیں ہمارے ہاں بیوہ کا نکاح نہیں ہوتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں کسی جگہ شادی ہو گئی تو کر دیں گے ورنہ لڑکی اسی طرح بیٹھی رہے گی۔میرے لئے یہ سخت صدمہ کی بات تھی۔میں نے بہت کوشش کی کہ مریم کا نکاح کسی اور جگہ ہو جائے مگرناکامی کے سواکچھ نتیجہ نہ نکلا۔آخر میں نے مختلف ذرائع سے اپنے بھائیوں سے تحریک کی کہ اس طرح اس کی عمر ضائع نہ ہونی چاہئیے ان میں سے کوئی مریم سے نکاح کر لے۔لیکن اس کا جواب بھی نفی میں ملا۔تب میں نے اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فعل کسی جان کی تیاری کا موجب نہ ہونا چاہیے اور اس وجہ سے کہ ان کے دو بھائیوں سینہ حبیب اللہ شاہ صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب سے مجھے بہت محبت تھی۔میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں مریم سے خود نکاح کرلوں گا۔اور نہ میں ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب مرحوم سے میں نے درخواست کر دی جو انہوں نے منظور کرلی اور ، فروں کی شر کو بہمارا نکاح مسجد مبارک کے قدیم حصہ میں ہو گیا۔وہ نکاح کیا تھا ایک ماتم کدہ تھا۔دعاؤں میں سب کی چیخیں نکل رہی تھیں اور گریہ و زاری سے سب کے رخسار تر تھے۔آخر ۲۱ فروری سنہ کو نہایت سادگی سے جا کر میں مریم کو اپنے گھر لے آیا اور حضرت ام المومنین کے گھر میں ان کو تارا جنہوں نے ایک کمرہ اُن کو دے دیا جس میں اُن کی باری میں ہم رہتے تھے۔وہی کرہ نہیں ہیں اب مریم صدیقہ رہتی ہیں۔وہاں پانچ سال تک رہیں اور وہیں اُن کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا یعنی طاہر احمہ (اول) مرحوم اور اس کے پہلے میں وہ سخت بیمار ہوئیں جو بیماری بڑھتے بڑھتے ایک دن ان کی موت کا موجب ثابت ہوئی۔مریم کو احمدیت پر سچا ایمان حاصل تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ سلام پر قربان تھیں۔ان کو قرآن کریم سے محبت تھی اور اس کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتی تھیں۔انہوں نے قرآن کریم ایک محافظ سے پڑھا تھا۔اس لئے طرق منوب بینک رضہ عورت سے زیادہ زور سے ادا کرتی تھیں علمی باتیں نہ کہ سکتی تھیں مگر علمی با توان کا مزہ خوب لیتی تھیں جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ کا موقعہ ہوتا تھا تو واپسی میں اس یقین سے گھر میں گھست کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہو گا اور وہ بجاتے ہی تعریفوں کے پل باندھ دیں گی اور کہیں گی کہ آج بہت مزہ آیا اور یہ میرا قیاس شاذ ہی غلط ہوتا تھا میں دروازے پر انہیں منتظر پاتا خوشی سے اُن کے جسم کے اندر ایک تھر تے راہٹ پیدا ہو رہی ہوتی تھی۔