تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 36
۳۶ جوں جوں ریت کے ہموار کنارہ پر ہم پھرتے تھے لُطف بڑھتا جاتا تھا اور اللہ تعالے کی قدرت نظر آتی تھی۔تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ اور صدیقہ بیگم جن دونوں کی طبیعت خراب تھی تھک کر ایک طرف ان چٹائیوں پر بیٹھ گئیں جو ہم ساتھ لے گئے تھے۔اُن کے اریم اما ما تعال بھی اکھڑے ہو اور پر عزیز است العزیز ال تعال بھی جان لیا گیا۔اس صرف ه ای ماتا اور وامه الودود مرحومہ پانی کے کنارے پرکھڑے رہ گئے۔میری نظر عزیزہ ایک بال پھر آسمان کی طرف اُٹھی اور میں نے چاند کو دیکھا جو رات کی تاریکی میں عجیب انداز سے اپنی چمک دکھا رہا تھا۔اس وقت قریباً پچاس سال پہلے کی ایک رات آنکھوں میں پھر گئی جب ایک عارف باللہ محبوب ربانی نے پچاند کو دیکھ کہ ایک سرد آہ کھینچی تھی۔اور پھر اس کی یاد میں دوسرے دن دنیا کو یہ پیغام سنایا تھا ے حیساند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا پہلے تو تھوڑی دیر میں یہ شعر پڑھتا رہا۔پھر میں نے چاند کو مخاطب کر کے اسی جمالِ یار والے محبوب کی یاد میں کچھ شعر خود کہے" سے اس موقعہ پر حضور نے کل آٹھ اشعار کہے جن کو حضور نے لطیف اور پر معارف تشریح کے ساتھ چاند میرا چاند کا عنوان دے کر اخبار الفضل“ (اروفا/ جولائی سب سیاست میں شائع فرما دیا اور بعد ۳۱۹ کو کلام محمود" میں بھی شامل کر دیئے گئے۔بطور نمونہ حضور کے تسلم سے اس پاکیزہ کلام کے دو شعر اور ان کی وضاحت درج کی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :- میری نظر سمندر کی بہروں پر پڑی جن میں چاند کا عکس نظر آتا تھا اور میں اس کے قریب ہوا۔اور چاند کا ٹکس اور پورے ہو گیا۔میں اور بڑھا اور عکس اور دُور ہو گیا۔اور میرے دل میں ایک درد اٹھا اور میں نے کہا۔بالکل اسی طرح کبھی سالک سے سلوک ہوتا ہے۔وہ اللہ تعالے کی ملاقات کے لئے کوشش کرتا ہے مگر بظاہر اس کی کوششیں ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں۔اُس کی " الفضل و وفا / جولائی اش صفحه ۱ - ۲ +