تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 547
۵۲۸ رقم ایا جس میں حضور نے بڑی تفصیل سے حضرت سیدہ کے سوانح ، ان کی فصائل وعادات ، ان کے کارناموں اور ا اور آخری بیماری کے الم انگیز حالات بیان فرمائے۔اس اہم مضمون کے بعض بیستہ جستہ مقامات درج ذیل کئے جاتے ہیں ۳۶ سال کے قریب ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم بیگم کا نکاح ہمارے مرحوم بھائی مبارک احمد صاحب سے پڑھ۔اس نکاح کے پڑھوانے کا موجب غالباً بعض خوابیں تھیں جن کو ظاہری شکل میں پورا کرنے سے ان کے انداری پہلو کو بدلنا مقصود تھا۔مگر اللہ تعالے کی مشیت پوری ہوئی اور مبارک احمد مرحوم اللہ تعالیٰ سے جا ملا اور وہ لڑکی ہوا بھی شادی اور بیاہ کی حقیقت سے نا واقف تھی بیوہ کہلانے گی۔اس وقت مریم کی عمر دو اڑھائی سال کی تھی اور وہ اور اُن کی ہمشیرہ زادی عزیزہ نصیرہ اکٹھی گول کمرہ سے جس میں اس وقت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب مرحوم ٹھہرے ہوئے تھے ، کھیلنے کے لئے اوپر آجایا کرتی تھیں اور کبھی کبھی گھبرا کر جب منہ بسورنے لگتیں تومیں کبھی مریم کو اُٹھا کر کبھی نصیر کو اُٹھا کر گول کمرے میں چھوڑ آیا کرتا تھا۔اس وقت مجھے یہ خیال بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچی جیسے میں اُٹھا کر نیچے لے جایا کرتا ہوں، کبھی میری بیوی بننے والی ہے۔اور یہ خیالی تو اور بھی بعید از قیاس تھا کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ میں پھر اُس کو اُٹھا کر نیچے لے بھاؤں گا۔مگر گول کمرہ کی طرف نہیں بلکہ قبر کی لحد کی طرف۔اس خیال سے نہیں کہ کل پھر اس کا چہرہ دیکھوں گا۔بلکہ اس یقین کے ساتھ که قبر اس کنارہ پر پھر اس کی شکل کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنا یا اس سے بات کرنا میرے نصیب میں نہ ہو گا۔عزیز مبارک احمد فوت ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب کی رخصت ختم ہو گئی۔وہ بھی واپس اپنی ملازمت پر رعیہ ضلع سیالکوٹ پہلے گئے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب اور ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اس وقت سکول میں پڑھا کرتے تھے۔دو نو میرے دوست تھے مگر ڈاکٹر نجیب عام دوستوں سے زیادہ تھے۔ہم یک بیان و دو قالب تھے۔مگر اس وقت کبھی وسیم بھی نہ آتا تھا کہ ان کی بہن پھر کبھی ہمارے گھر میں آئے گی۔اُن کی دوستی خود اُن کی وجہ سے تھی۔اس کا باعث یہ نہ تھا کہ اُن کی ایک بہن ہمارے ایک بھائی سے چند دن کے لئے بیاہی گئی تھی۔دن کے بعد دن اور سالوں کے بعد سال گذر گئے اور مریم کا نام بھی ہمارے دماغوں سے بہٹ گیا مگر حضرت خلیفہ ایسے لاوانی کی وفات کے بعد ایک دن شاید کسانہ یا شانہ تھا کہ میں امتد الحی مرحومہ کے گھر میں بیت الخلاء سے نکل کر کمرہ کی طرف آرہا تھا۔راستہ میں ایک چھوٹا سا صحن تھا۔اس کے ایک طرف لکڑی کی دیوار تھی۔میں نے دیکھا کہ ایک ڈیلی پہلی سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی مجھے دیکھ کر اس لکڑی کی دیوار سے چمٹ گئی اور اپنا سارا لباس سمٹا لیا۔میں نے کمرہ میں جا کو استرالی مرحومہ سے پوچھا۔اعتدالی۔یہ لڑکی یا ہرکوں کھڑی ہے ؟ انہوں نے کہا۔آپ نے پہچانا نہیں۔