تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 546 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 546

اُس دن اُس کا باپ مرگیا ہو۔اُس کا بیٹا مر گیا ہو۔اُس کی بہیں مرگئی ہو۔اُس کی بیوی مر گئے ہو۔وہ اپنی انکھوں کو پنچھتا اور اپنی کمر کو سیدھی رکھتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ آج میرے آقا کی خوشی کا دن ہے۔آج میرے لئے غم کا اظہار کرنا جائز نہیں۔اسی طرح آج ہمارے نئے خوشی کا دن ہے۔آج ہمارے " مستربت و شادمانی کا دن ہے کہ ۱۳۰۰ سال کے لیے وجہ اور ہزار سال نیج اعوج کے بعد خدا نے پھر چاہا کہ اس کے بندے اس کی طرف واپس آئیں۔خدا نے پھر چاہا کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا میں پھیلے بغدا نے پھر چاہا کہ توحید کو دنیا میں قائم کرے۔خدا نے پھر چاہا کہ شیطان کو آخری شکست دے کر دین کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دے۔پس آج جبکہ ہمارے رب کے لئے خوشی کا دن ہے ہمارے رنج اس کی خوشی پر قربان ہم اس کی خوشی کے دن منحوس با تیں کرنے والے کون ہیں۔جتنے احسانات اللہ تعالیٰ نے ہم پر گئے ہیں واقعہ یہ ہے کہ اگر ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اور اگر ہماری بیویوں، اور ہمارے بچوں کا ذرہ زیرہ آروں سے چیر دیا جائے تب بھی ہم نہیں کہ سکتے کہ ہم نے اس کے احسانوں کا کوئی بھی شکریہ ادا کیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں یا تم میں سے سارے اس مقام پر ہیں۔مجھ میں کبھی کمزوریاں ہیں اور تم میں بھی۔لیکن سچی بات یہی ہے اور جتنی بات اس کے خلاف ہے وہ یقینا ہماری یہ نفس کا دھوکا ہے۔آج آسمان پر خدا کی قوتوں کی فتح کے نقارے بج رہے ہیں۔آج دنیا کو خدا کی طرف لانے کے سانا گئے بیما رہتے ہیں۔آج خدا کے فرشتے اُس کی حمد کے گیت گا رہتے ہیں اور تجہ بھی اس گیت میں ان فرشتوں کے ہمنوا اور شریک ہیں۔اگر ہم جسمانی طور پر غمزدہ ہیں اور ہمارے دل، تخم خوردہ ہیں تب بھی مینا طور پر ہمارا یہی فرض ہے کہ ہم اپنے رب کی فتح اور اس کے نام کی بلندی کی خوشی میں شریک ہوں تا اس کی بخشش کے مستحق ہوں۔اللہ تعالے ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے غموں کو خود بلکا کرے کہ رُوح اُس کے آستانہ پر پھیلی ہوئی مگر گوشت پوست کا دل دکھ محسوس کرتا ہے " اے حصیلی موجود کے قلم مبا انا انا انا انا انا انا انا الا ان ریا ہے تین ماہ تک حضرت سیدہ ام طاہر کی نسبت کچھ نہیں لکھا۔سلت حضرت سید ارقم ظاہر و بالا کرتی از ان بعد ارشاد برونی اذکر را محاسن موتا کور کے مطابق ایک مضمون له الفضل در امان مارش به و نضرة النور" شرح مختارات الاحاديث النبويه جز اول تیر ۵۹) نادر مصطفی البابی الحلبی مصر ه در تم اپنے دوں کے معاش کا تذکرہ کیا کرو"