تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 538 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 538

۵۱۹ کی صداقت پر ایک عظیم الشان آسمانی نشان کا ظہور مومنوں کے لئے انتہائی مسرت و شادمانی کا موقعہ تھا اور یقیناً یہ روحانی عید تھی۔چنانچہ اس انکشافتِ الہی پر جماعت احمدیہ کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجا لایا۔اس کا فضل دیکھ کہ اُن کے دل خوشی سے بھر گئے اور وہ بیساختہ پکار اٹھے مبارک صد مبارک۔دُور کے اصحاب نے براجہ تار اس تہنیت میں شرکت کی۔اور مبارک باد اور خوشیوں سے معمور یہ تقریب بھی ایک محافظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واضح ارشاد کی تعمیل ہی میں تھی کہ اے دے لوگو جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا جبرانی میں مت پڑھو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی " سے ہی نہیں خود اللہ تعالیٰ نے ایک موعود فرزند کے ملنے پر اپنے مسیح موعود کو الہام فرمایا :- ” ساقیا آمدن عید مبارک بادت کے یعنی اے ساقی! عید کا آنا تجھے مبارک ہو یکن مولوی محمدعلی صاد باز امیراحمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) نے نشانِ رحمت کے ایمان افزا اعلان کو ” نے موسم کی بعید “ قرار دیتے ہوئے لکھا :۔" ان ایام میں قادیان میں ایک بے موسم کی عید آگئی ہے۔تاریں پھیل رہی ہیں ، مبارکبادیں دی جا نہ ہی ہیں سکول اور دفاتر بند ہو رہے ہیں اور جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔اگر کوئی مصلح موعود ہو بھی گیا تو یہ خوشی اور تاروں کا کونسا موقعہ ہے ؟ کے مچھر لکھا :- حدیث میں وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر بھی قد آئے گا۔اس کے علاوہ سب چیزوں کو فضول اور صدی کے سر کا انقطار کرد۔شاید اللہ تعا لئے کسی کو کھڑا کر دے۔ابھی بڑا وقت 15 له تبارم میمیره تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۳۷ ه "بدر ۳۱ اکتوبر کشته صفهم : کے "پیغام صلح" در فروری ۱۹۳۷ از صفحه ۱ و ۲ یہ مولوی صاحب کی بیگم صاحبہ نے لکھا۔ہمیں قادیان والوں کی اس اندھا دھند " عقیدت سے مرعوب ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک ابتکار کا وقت ہے ہمیں اس میں ثابت قدم رہنا چا ہیے (پیغام صلح ۲۹ ارچار سٹھ ۳ بحوالہ ان شہادت اپریل بیش نه ۲ - * را بریال کے عجیب بات ہے کہ مولوی بھی علی ساس نے منہ مصلح وہ خود کا انکار اس نے کیا کہ آپ کا دخوئی عندی کے سر پر نہیں مگر ان کے رفقاء نے ان کی وفات کے بعد خود انہی کو اہمیت کا پہلا مجدد قرار دے لیا۔چنانچہ شیخ میاں محمد صاحب نے لکھا۔"میرا ایمان ہے کہ جس طرح اسلامی دور میں فتنوں کو دور کرنے کے لئے ہر صدی میں مجدد آتے رہے اسی طرح احمدیت کے دور میں پیدا ہونیوالے فتنوں کو دور کرنے کے لئے سب