تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 539 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 539

۵۲۰ باقی ہے۔بھائیس سال با تی ہیں؟ - مولوی صاحب موصوف کا یہ موقف حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے فرمودات کی روشنی میں کہانتک حق بجانب قرار دیا جا سکتا تھا۔اس کا قطعی فیصلہ کرنے کے لئے صرف اتنا بتا دینا کافی ہوگا کہ اشتہار ۲۰ فروری ہے اور اور سبز اشتہار میں مصلح موعود کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صلبی اولاد میں سے اور بشیر اول کے بعد بلا توقف پیدا ہونے والا فرزند قرار دیا گیا تھا نہ کہ آئندہ کسی اور سندی کے سر پر ظاہر ہونے والا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ وضاحت بھی موجود تھی کہ ی امام جوخدا تعالے کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ محمد صدی بھی ہے اور مجددالف آخر بھی پھر فرمایا : یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے" جناب مولوی صاحب موصوف نے دعوی مصلح موعود کا مذاق اُڑاتے ہوئے اور بھی بہت کچھ خامہ فرسائی کی چنانچہ لکھا :- ا۔اگر اس فساد کی اصلات کی ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ لاہور کا ایک آدمی مصلح موجود ہے اور وہ ایسا دعوی کریں تو حق بجانب ہیں کہ۔" اس درویار) میں موجود کا لفظ کہیں نہیں نہ مصلح موعود نہ پسر موعود۔رہا یہ کہ مثیل اور خلیفہ کہا ہے تو خلیفے سینکڑوں اور ہزاروں ہو سکتے ہیں" شه له "پیغام صلح و فروری ۱۲۵ مه بحوالہ فقران تبلیغ فروری ، یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ مولوی محمد علی صاحب سے قبل ازیں سوال کیا گیا کہ آیا گذشتہ مجددین کی طرح اس صدی کے آخر پر سلسلہ کا انجام بھی ہو گا ؟ مولوی محمد علی قصاب نے جواب دیا کہ " آنحضرت صلعم کے بعد جو مجددین کا سلسلہ چلتا ہے رہی قیامت تک چلے گا مگر چونکہ اس صدی کے جد کا کام محض وقتی تجدید نہیں بلکہ اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی بنیاد اس کے ظہور کے ساتھ رکھی گئی ہے اور یہ علیہ قیامت تک ہوتا چلا جائے گا اور ہمیشہ رہے گا۔اس لئے اس سلسلہ کا انجام بھی کوئی نہیں لیکن ہر مجدد اپنے وقت کا امام ہوگا اور غلبہ اسلام کی سین راہوں پر وہ پھلائے۔انہی پر چلنا ہو گا۔خواہ وہ وہی ہوں جن پر اس صدی کے مجدد نے چلنے کے لئے بلایا ہے اور خواہ کوئی اور ہو " اپیغام صلح" ۲۱ جنوری ۳ بر صفر ۶ کالم 1) * لیکچر سیالکوٹ ، صفحہ ، لیکچر فرموده از تو بر نامه بمقام سیالکوٹ سے حقیقۃ الوحی صفحه ۱۹۳ طبع اول سے "پیغام صلح و فروری ۱۹۹۴ صفحه ۲ شه ايضاً ايضاً الينا