تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 536 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 536

۵۱۷ لڑیں گے اور پیچھے بھی اور جس طرح یہود نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا ہم آپ سے نہیں کہیں گے اذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کیس طرح گذری ہوئی اقوام کے ان واقعات سے جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں غیرت و بصیرت حاصل کرتے تھے۔دیکھنا یہ ہے کہ اخرین منھم کی جماعت کس طرح عبرت و موعظت حاصل کرتی ہے اور اب تو خدا کے ایک صدیقی بندے نے ہمیں اس طرف متوجہ بھی کر دیا ہے۔مبارک ہیں جو اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور صلح موعود کے قدموں میں اپنے تئیں لا ڈالتے ہیں کہ وہ الہی خوشنودی کو حاصل کریں گے اور فتوحات کے ان وعدوں کی تکمیل میں شریک ہو کر دین و دنیا کی سرخروئی پانے والے نہیں گئے۔بنی اسرائیل کو جس قوم کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور حسین سے انہوں نے انکار کر دیا وہ بت پرست قوم تھی اور اُس روبار میں جو مصلح موعود کی پیشگوئی کا انکشاف کرنے والی ہے اُس میں بھی آپ ایک بت پرست قوم ہی میں وعظ و تلقین فرماتے ہیں۔گویا جس قوم کی سنرا یا اصلاح کے فرض سے بنی اسرائیل نے پہلو پتی کی اور فتوحات سے محروم رہ گئے تھے۔اب اس فرض کو مصلح موعود نے ادا کر کے فتوحات کے بند کئے ہوئے دروازہ کو کھولنے کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ ربیع الاول رضی اللہ عنہ نے تمہیں سال کے بعد موعود مجدد ( قدرت ثانیہ کے ظہور کی حسین امید کا اظہار فرمایا ہے اس کی بنیاد در اصل باریک الہی اشارہ کے ماتحت اس واقعہ پر ہے کہ حضرت موسی کی قوم سے بھی جو وعدے تھے وہ قوم کی گستاخیوں کی وجہ سے چالیس سال تک معرض التوا میں پڑ گئے۔اسی طرح مسیح موعود سے جو وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں اُن کی تکمیل بھی متاخر کر دی گئی اور اب قوم کو تیس سال مزید انتظار کرنا چاہیئے۔اس پر میرے ذہن میں خلجان تھا کہ اصل بنیاد اربعين سنة یعنی پائیں سال کے الفاظ پر معلوم ہوتی ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اول تا عیدین پھالیں سالی کی بجائے تمہیں سال کی فرماتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے چنا نچہ جب میں نے یہ حوالہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ الود دو کے سامنے پیش کیا تو حضور نے فرمایا ” بہت لطیف حوالہ ہے“ اور ساتھ ہی میری اس مشکل کو بھی حل فرما دیا کہ چالیں سال کی مدت اس طرح بنتی ہے کہ بعض لوگوں نے دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی